کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 94
دشمن کو ملو تو تم ان کی گردنیں کاٹ دو اور وہ تمھاری گردنیں کاٹ دیں۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کون سی چیز ہے؟ بتائیے! آپ نے فرمایا: ’’اللہ کا ذکر یعنی اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کرنا۔‘‘ عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول! ایمان کی شریعتیں مجھ پر بہت زیادہ ہیں، تو مجھے کوئی ایسی بات بتاؤ جسے تھام رکھوں۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَزَالُ لِسَانُکَ رَطْبًا مِّنْ ذِکْرِ اللّٰہِ تَعَالٰی)) [1] ’’اپنی زبان کو ہمیشہ اللہ کے ذکر کے ساتھ تر رکھو۔‘‘ صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَقُوْلُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِيْ بِيْ، وَأَنَا مَعَہٗ إِذَا ذَکَرَنِيْ، فَإِنْ ذَکَرَنِيْ فِيْ نَفْسِہٖ، ذَکَرْتُہٗ فِيْ نَفْسِيْ، وَإِنْ ذَکَرَنِيْ فِيْ مَلَأٍ ذَکَرْتُہٗ فِيْ مَلَأٍ خَیْرٌ مِنْہُمْ.....الحدیث)) [2] ’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوتا ہوں، وہ جیسا میرے متعلق گمان رکھے اور میں اس کے ساتھ ہوں جب بھی وہ مجھے یاد کرے۔ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں، اگر وہ مجھے مجلس میں یاد کرے تو میں بھی اسے اس مجلس میں یاد کرتا ہوں جو ان کی مجلس سے بہتر ہے .....آخر حدیث تک۔‘‘ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی نصوص ہیں جو ذکر کی فضیلت، اہمیت اور اس میں مشغول ہونے کے متعلق ہیں۔ [1] مصنف ابن ابی شیبہ، ح: ۲۹۴۵۳، ط: مکتبہ الرشد ، الریاض۔ ترمذی، ح: ۳۶۷۱ ۔ ابن ماجہ، ح: ۳۷۹۳ ۔ حاکم، ح: ۱۸۲۲۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے ابن ماجہ میں صحیح الاسناد کہاہے۔ [2] صحیح بخاری، کتاب التوحید، ح: ۷۴۰۵ ۔ صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء، ح: ۲۶۷۵۔