کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 91
پاک کرنے لگا اور اس کے گھٹیا ارادے مٹانے لگا اور اللہ کے بغیر دوسروں سے تعلق توڑ کر اسے فارغ اور خالی کرنے لگا اور یہ چیز عبادت، محبت، خشیت اور انابت اور اللہ کی محتاجی کا سبب بن گئی۔ مقصود یہ ہے کہ ایمان کا سب سے بڑا باعث اور اس کی طاقتوں میں زیادہ نفع بخش اور اس کے بڑھنے اور زیادہ ہونے کے اسباب میں سے اہم ترین سبب ایمان کے ساتھ، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے کے ساتھ اصلاح کرنا ہے اور جو چیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں اس کے ساتھ بھی دل درست ہو اور جو چیز اس کے خلاف ہو اس سے اسے پاک کرنا ضروری ہے۔ زبان کے اعمال: زبان کے اعمال یہ ہیں : اللہ کا ذکر کرنا، اس کی حمد و ثنا بیان کرنا، قرآن مجید کی تلاوت کرنا، اس کے رسول پر درود و سلام بھیجنا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، تسبیح و استغفار اور دعا وغیرہ اور اسی طرح دیگر اعمال جو زبان سے ادا کیے جاتے ہیں۔تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان اعمال کی ادائیگی، ان پر ہمیشگی اور ان میں اضافہ، ایمان کی زیادتی کے عظیم ترین اسباب میں سے ہے۔ شیخ ابن سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں : ’’ایمان کے اسباب میں سے کثرت ذکر اور دعا بھی جو عبادت کا مغز ہے۔ پس اللہ کا ذکر ایمان کے درخت کو دل میں لگاتا ہے اور اسے غذا دے کر اس کے نشوونما کا انتظام کرتا ہے اور جب بندہ اللہ کا ذکر زیادہ کرتا ہے تو اس کا ایمان مضبوط ہو جاتا ہے۔ جس طرح ایمان کثرت ذکر کی دعوت دیتا ہے تو جو شخص اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتا ہے وہ اسے کثرت سے یاد کرتا ہے اور اللہ کی محبت بھی ایمان میں سے ہے، بلکہ یہ اس کی روح ہے۔‘‘[1] [1] التوضیح والبیان لابن سعدی ، ص: ۳۲۔