کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 88
حرکت کریں گے اور اس رضامند کے مطابق چلیں گے۔ کسی بھی حال میں انسان کا دل فکر سے خالی نہیں ہوتا، پھر اسے یا تو آخرت کی فکر ہو گی اور وہ اس کی مصالح میں فکر کرے گا یا دنیا کی مصالح و معاش کی فکر میں ہو گا یا وہ وسوسوں، آرزوؤں اور فرضی اندازے لگانے میں مصروف ہو گا۔ اصلاح دل کا جامع طریقہ یہ ہے کہ وہ اسے اس فکر میں مصروف رکھے جس میں اس کی حقیقی اصلاح و فلاح ہو، تو علوم و تصورات کے باب میں تم اسے توحید اور اس کے لو ازمات جو تم پر فرض ہیں ان میں مصروف رکھو اور موت اور اس کے بعد کے حالات میں مصروف رکھو، جنت اور جہنم میں داخل ہونے تک کے حالات میں مصروف رکھو۔ اعمال کی آفتوں اور ان سے بچنے کے طریقے۔ ارادوں اور عزائم کے باب میں۔اس ارادے میں مشغول رکھو جو تمھیں نفع پہنچائے اور تمھارے ارادے کو جو چیز نقصان دے اس کے ارادے کو چھوڑ دو۔[1] اس بارے میں سب سے بڑی چیز جو بندے کی مدد گار ہے، وہ دل میں نفع مند شواہد کی کثرت ہے، تاکہ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ مضبوط ہو جائے اور نیک اعمال دل میں شواہد کے قائم رہنے کے مطابق ہوتے ہیں۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ہم اللہ تعالیٰ کی توفیق اور مدد سے ان شواہد کی طرف اشارہ کریں گے جس سے معاملے کی حقیقت واضح ہو جائے گی: پہلا شاہد وہ ہے کہ جو اللہ اور آخرت کے گھر کی طرف چلا تو اس کے سامنے دنیا کا ایک گواہ آ گیا، جو اس کی حقارت، قلت وفا، کثرت جفا، شریکوں کی کمینگی کا اظہار کر رہا تھا اور دنیا کے ختم ہونے کا بھی اقرار کر رہا تھا۔ تو جب یہ گواہ اس شاہد کے سامنے آیا تو اس کے دل میں سے دُنیا ہٹ گئی تو وہ آخرت کی تلاش [1] الفوائد لابن القیم ، ص: ۱۷۶، ط: دار الکتب العلمیۃ۔