کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 87
جسم کی حرکات دل کی حرکات اور ارادے کے تابع ہوتی ہیں، تو اگر اس کی حرکات اور ارادے اللہ وحدہ لا شریک لہ کے لیے ہو جائیں تو وہ خود بھی اور اس کی تمام حرکات درست ہو جائیں گی اور اگر وہ حرکات اور ارادے غیر اللہ کے لیے ہوں تو وہ خود بھی بگڑ جائے گا اور جسم کی تمام حرکات دل کی خرابی کے مطابق بگڑ جائیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: ((مَنْ أَحَبَّ لِلّٰہِ وَ أَبْغَضَ لِلّٰہِ وَ أَعْطٰی لِلّٰہِ وَ مَنَعَ لِلّٰہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الْاِیْمَانَ)) [1] ’’ جو شخص اللہ کے لیے کسی سے دوستی رکھے اور اسی کے لیے دشمنی رکھے۔ اسی کے لیے دے اور اسی کے لیے روک لے تو اس کا ایمان مکمل ہو گیا۔‘‘ ’’اس کا معنی یہ ہے کہ دل اور جوارح کی تمام حرکات جب اللہ کے لیے ہوں تو اس بندے کا ایمان مکمل ہو جاتا ہے باطنی طور پر بھی اور ظاہری طور پر بھی۔ دل کی حرکات کی درستی سے لازماً جوارح کی حرکات بھی درست ہو جاتی ہیں۔تو جب دل درست ہوا اور اس میں صرف اللہ کا ارادہ ہو اور جس کا ارادہ وہ چاہتا ہو تو اس کے جوارح اسی کے ارادے کے مطابق کام کریں گے اور اسی کی رضا کے مطابق تیزی سے حرکت کریں گے اور جسے وہ برا سمجھتا ہے اس سے باز رہیں گے اور پھر وہ اس چیز بھی دور رہتا ہے جس کے متعلق وہ ڈرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے ناپسند جانے گا۔ اگرچہ اسے اس کا یقین نہ بھی ہو پھر بھی وہ اس سے دور رہے گا۔‘‘[2] تو جب دل ایمان و صداقت اور اخلاص و محبت کے ساتھ اصلاح پذیر ہو جائیں اور ان میں غیر اللہ کا ارادہ باقی نہ رہے تو تمام جوارح درست ہو جائیں گے، تو صرف اللہ کے لیے [1] ابوداؤد، ح: ۴۶۸۱۔ الطبرانی فی الکبیر، رقم: ۷۷۳۷۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔دیکھئے : السلسلۃالصحیحۃ: ۱؍ ۶۵۷۔ [2] جامع العلوم والحکم لابن رجب ، ج۱، ص: ۲۱۳