کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 86
جب دل درست ہو، کیونکہ اس میں ایمان عملی، علمی اور قلبی طور پر موجود ہو تو لازماً اس سے جسم کی صلاح ہو جائے گی اور یہ صلاح ظاہری قول سے ایمان مطلق کے ساتھ عمل کی وجہ سے ہو گی۔‘‘[1] بہت بڑی چیز جو کسی شخص میں ظاہراً اور باطناً ایمان میں زیادتی کرتی ہے کہ وہ اپنے نفس کے ساتھ پورا پورا جہاد کرے، جو اس کے دل کی اصلاح اور تعمیر کرے اور اللہ کی محبت اور اس کے محبوب اقوال و اعمال سے اسے آباد کرے۔ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں : ’’دل اس وقت تک درست نہیں ہوتے جب تک ان میں اللہ کی معرفت، عظمت، محبت، خشیت، ہیبت، امید اور اس پر توکل قرار نہ پکڑے اور جب وہ ان صفات سے بھر جائے اور یہی حقیقت توحید ہے اور اور لا الٰہ الا اللہ کا یہی معنی ہے۔ تو دلوں کی درستی اسی وقت ہو سکتی ہے جب کہ اس کا الٰہ وہ ہو جس کی طرف گھبراتا ہوا آئے اور وہ اسے پہچانتا ہو اور اسے دوست رکھتا ہو اور دل اس سے ڈرتا ہو اور وہ ایک ہی معبود ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور اگر آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی معبود ہو جس کی طرف لوگ گھبراہٹ اور مصیبت کے وقت آئیں تو یہ آسمان و زمین دونوں فساد سے بھر جائیں۔جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا﴾ (الانبیاء: ۲۲) ’’اگر زمین و آسمان میں اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا معبود ہوتا تو یہ دونوں خراب ہو جاتے۔‘‘[2] تو معلوم ہوا عالم علوی اور عالم سفلی دونوں اس وقت تک درست نہیں ہو سکتے حتیٰ کہ ان دونوں کی حرکات صرف اللہ کے لیے نہ ہو جائیں۔ [1] مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ : ۷؍۱۸۷۔ [2] جامع العلوم والحکم لابن رجب الحنبلی، ج۱، ص: ۲۱۲۔ الوابل الصیب لابن القیم، ص: ۲۱۔