کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 84
قلبی اعمال دراصل دین کی بنیاد اور تمام امور ک ی جڑ ہیں اور یہ اہم ترین مقاصد میں سے ہے۔ بلکہ اعمال ظاہرہ اگر قلبی اعمال سے خالی ہوں تو وہ قبول نہیں کیے جاتے۔ کیونکہ عام اعمال کی قبولیت میں اخلاص کا وجود شرط ہے اور اخلاص ایک قلبی عمل ہے، اسی لیے قلبی اعمال ہر ایک شخص پر لازم اور واجب ہیں ان کو ترک کرنا کوئی اچھا کام نہیں ہے اور کسی حال میں ان کو چھوڑنا درست نہیں۔اور لوگ اچھے اعمال کی ادائیگی کے لحاظ سے تین قسم کے ہیں، جس طرح وہ بدنی اعمال میں تین درجات پر ہیں : ۱۔ کچھ ان میں سے اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں۔ ۲۔ کچھ درمیانی چال والے ہیں۔ ۳۔ کچھ ایسے ہیں جو نیکیوں میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔[1] اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ پہلے اپنے دل کو پاک صاف کرے اور اس کی اصلاح اور نگرانی کرتا رہے اور اس کی ظاہری اصلاح سے پہلے باطنی اصلاح ہونی چاہیے کیونکہ اندرونی گندگی کے ہوتے ہوئے باہر سے صفائی کا کوئی اعتبار نہیں ہو سکتا۔ جب کوئی مسلمان اچھے اعمال اور اخلاص و سچائی سے اپنے دل کو صاف کر لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے تو اس کے جوارح درست ہو جاتے ہیں اور اس کا ظاہر ٹھیک ہو جاتا ہے۔ جس طرح صحیحین میں نعمان بن بشیر کی حدیث ہے، وہ کہتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ فرما رہے تھے: ((أَلَا وَ إِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَۃً إِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ أَلَا وَھِيَ الْقَلْبُ)) [2] خبردار! انسان کے جسم میں ایک لوتھڑا ہے، جب تک وہ ٹھیک رہے تو سارا جسم ٹھیک رہتا ہے اور جب وہ بگڑ جائے تو تمام جسم خراب ہو جاتا ہے۔ خبردار! وہ دل ہے۔‘‘ [1] انظر: مجموع االفتاوی لابن تیمیہ: ۱۰؍۶۔ [2] صحیح بخاری کتاب الایمان،ح: ۵۲۔