کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 81
جنھیں شمار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت، سخاوت اور نیکیوں پر مشتمل ہیں اور یہ سب کچھ پیدا کرنے والے کی تعظیم، اس کے شکر اور دین کے اخلاص کی طرف دعوت دیتی ہیں اور یہ ایمان کا روح اور بھید ہے۔‘‘[1] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی کتاب میں غور کرنے کا حکم دیا کہ وہ اس کی آیات و دلائل میں تدبر کریں اور یہ حکم اس نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر دیا ہے، کیونکہ یہ بندوں کے لیے بہت مفید اور عظیم فوائد پر مشتمل ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴾ (البقرۃ: ۱۶۴) ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے آنے جانے میں اور اس کشتی میں جو سمندر میں لوگوں کو نفع دینے کے لیے چلتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کیا اور اس میں ہر ایک جانور پھیلایا اور ہواؤں کے چلنے میں اور اس بادل میں جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہے البتہ ان لوگوں کے لیے دلائل ہیں جو عقل رکھتے ہیں۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ﴾ (الروم: ۲۰) [1] التوضیح والبیان لابن سعدی ، ص: ۳۱۔