کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 72
(( ومن کان بہم أشبہ کان ذالک فیہ أکمل)) [1] ’’جو شخص ان کے ساتھ جتنی زیادہ مشابہت رکھے گا اتنا ہی وہ کامل ہو گا۔‘‘ ((مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ)) درج بالا گزرے ہوئے ابواب سب کے سب ایمان میں زیادتی اور قوت پیدا کرنے سے متعلق تھے اور ان شرعی اُمور پر مشتمل تھے جو کتاب و سنت سے اور سلف صالحین سے ماخوذ ہیں۔ شرعی علم کے علاوہ دوسرے علوم جیسے علم طب و ہندسہ اور علم فلک، حساب اور اسی طرح علم نباتات وغیرہ جن کو لوگوں نے واضح کر دیا اور ان کی طرف بہت زیادہ توجہ اور حد سے زیادہ اہتمام کرنے لگے حتیٰ کہ بہت سے لوگ اساسیاتِ دین سے بھی زیادہ انھیں پر توجہ دینے لگے، اسی طرح وہ امور جن کے حاصل کرنے کے لیے زیادہ فکر کرنی چاہیے تھی، اگرچہ یہ علوم بھی ایمان کی زیادتی میں بہت زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ان لوگوں نے بھی اس سے حق کا ارادہ کیا ہے، صرف اپنی خواہش سے اس طرف توجہ نہیں دی۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جن کے علم میں اضافہ علم طب میں مشغول ہونے سے ہوا ہے اور ان کا اللہ تعالیٰ کے اعجاز پر غور و فکر اور انسان کی پیدائشی صنعت کی باریکی اور ترکیب پر توجہ، جس سے لوگوں کی عقلیں حیران رہ گئیں، بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ﴾(التین: ۴) ’’یقیناً ہم نے انسان کو بہترین ڈھانچے میں پیدا کیا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ ﴾ (التغابن: ۳) ’’اس نے تمھیں شکلیں دیں تو بہت اچھی شکلیں دیں اور اسی کی طرف تمھارا لوٹ [1] العبودیۃ لابن تیمیہ، ص: ۱۱۶۔ الناشر: المکتب الاسلامی، بیروت