کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 70
پانچواں باب: امت مسلمہ کے سلف کی سیرت پڑھنا اس امت کے سلف، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے احسان کے ساتھ پیروی کرنے والے ہیں جو اسلام کے پہلے حصے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ بہترین زمانے والے ہیں اور اسلام کی حمایت کرنے والے ہیں، مخلوق کے راہنما ہیں، پہاڑوں کے شیر ہیں، وہ اس دین کے حاملین ہیں، وہ بعد والوں کے لیے اس دین کو پہنچانے والے ہیں، تمام دنیا تک وہ اسے پہنچاتے رہے، وہ مضبوط ایمان، ٹھوس علم، نیک اور پاکیزہ دلوں والے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ صحابہ کرام مخصوص درجہ رکھتے تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی رؤیت کا اعزاز بخشا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھنے کا فائدہ عطا کیا اور آپ کی مبارک آواز سننے کا اکرام بخشا اور آپ کی حدیث سے مانوس کیا تو انھوں نے دین کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تروتازہ طور پر حاصل کیا، تو اس دین کے ساتھ ان کے دل مضبوط، مستحکم اور مطمئن ہو گئے اور وہ اس دین پر مضبوط چٹانوں کی طرح جم گئے۔ ان کی فضیلت میں یہی بات کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مخاطب کر کے فرمایا ہے: ﴿ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾ (آل عمران: ۱۱۰) ’’تم بہترین جماعت ہو جو لوگوں کے لیے نکالے گئے ہو۔‘‘ معنی یہ ہے کہ وہ تمام امتوں سے بہتر تھے اور تمام لوگوں سے زیادہ دوسروں کو نفع پہنچانے والے تھے۔ صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((خَیْرُ أُمَّتِيْ الْقَرْنُ الَّذِيْ بُعِثْتُ فِیْہِ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ)) [1] [1] صحیح بخاری، کتاب الشہادات، ح: ۲۶۵۱۔ صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، ح: ۲۵۳۵۔