کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 68
ان لوگوں کی ہے جو ایمان میں ثابت قدم اور مضبوط رہے اور یہ لوگ دین سے پھر جانے سے بہت دور ہوتے ہیں بلکہ ہمیشہ ثابت قدم رہتے ہیں، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملتے ہیں۔‘‘[1] امام ابن قیم رحمہ اللہ کی اس بات کی تائید حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ثَلَاثٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ وَجَدَ حَلَاوَۃَ الْاِیْمَانِ: أَنْ یَّکُوْنَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا سِوَاہُمَا، وَأَنْ یُحِبَّ الْمَرْئَ لَا یُحِبُّہٗ إِلَّا لِلّٰہِ، وَ أَنْ یَّکْرَہَ أَنْ یَّعُوْدَ فِي الْکُفْرِ کَمَا یَکْرَہُ أَنْ یُّقْذَفَ فِي النَّارِ)) [2] ’’تین چیزیں جس میں ہوں تو وہ ان کے ساتھ ایمان کی حلاوت پا لیتا ہے: (۱) .....اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام دوسرے لوگوں سے زیادہ محبوب ہوں۔ (۲) .....اگر کسی سے دوستی رکھے تو اللہ تعالیٰ کے لیے اس سے دوستی رکھے۔ (۳) .....اور کفر میں واپس لوٹنا اتنا ہی برا سمجھتا ہو جتنا آگ میں ڈالے جانے کو وہ برا سمجھتا ہے۔‘‘ تو یہ شخص جس نے ایمان کی حلاوت کو چکھ لیا اور اس کے دل کی بشاشت اس کے دل کے سیاہ نقطے سے مل گئی اور اس نے اسے روشن کیا اور اس سے مکمل طور پر اطمینان حاصل کیا تو یہ چیز بالکل نہیں ہو سکتی کہ وہ کفر اور گمراہی کی طرف واپس ہو اور خواہشات کی اتباع کرے اور بدگمانیوں میں واقع ہو جائے۔ بلکہ یہ شخص تمام لوگوں سے زیادہ مضبوط ایمان والا ہے اور ایمان کے ساتھ اس کا گہرا تعلق اور قوی رشتہ ہے۔ [1] مفتاح دار السعادۃ لابن القیم ،ص: ۳۴۰، ۳۴۱۔ [2] صحیح بخاری، کتاب الایمان، ح: ۶۱۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، ح: ۴۳۔