کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 67
کے حسن و جمال کو کوئی شخص زبان و کلام پر لا سکتا ہے اور نہ ہی اربابِ عقول اپنی عقلوں سے اس سے اعلیٰ شریعت ایجاد کر سکتے ہیں، اگرچہ وہ اکٹھے ہو کر ایک شخص کی عقل کی طرح کیوں نہ ہو جائیں اور عقول کاملہ و فاضلہ کی اتنی بات ہی کافی ہے کہ انھوں نے اس کے حسن کو پا لیا ہے اور اس کی فضیلت کو دیکھ لیا ہے اور دنیا کے پاس کوئی شخص ایسی کامل، بڑی اور اس سے زیادہ عظیم شریعت لے کر نہیں آیا۔ تو یہ خود ہی ’’شاہد‘‘ اور خود ہی ’’مشہود لہ‘‘ اور خود ہی ’’حجت‘‘ بھی اور خود ہی ’’محتج لہ‘‘ بھی ہے اور یہ دعوی بھی ہے اور خود ہی اس کی دلیل بھی ہے اور خود ہی نشانی ہے اور خود ہی گواہ کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔‘‘[1] اس دین کے محاسن میں غور و فکر کرنا اور اس کے اوامر و نواہی، شرائع و احکام اور اخلاق و آداب میں نظر و تدبر کرنا ان عظیم اسباب میں سے ہے کہ جو پہلے مومن نہیں وہ ایمان دار ہو جاتا ہے اور جو پہلے سے ایمان دار ہو اس کا ایمان بڑھ جاتا ہے، بلکہ اگر اس کا تامل اور سوچ بچار دین میں مضبوط ہو اور اس کی معرفت میں رسوخ و استحکام ہو اور اس کے حسن و کمال کی اور اس کے خلاف کی معرفت جتنی زیادہ مضبوط ہو گی اتنا ہی وہ ایمان میں مضبوط اس میں ثابت قدم اور اسے مضبوطی سے پکڑنے والا ہو گا۔ اسی لیے امام ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں : ’’مقصد یہ ہے کہ جب اس امت کے خاص خاص اور چیدہ چیدہ لوگوں کی عقلوں نے اس دین کی خوبی اور بزرگی و کمال کو دیکھا اور اس کے برعکس اس کے خلاف اور ناقص و ردّی اشیاء کو بھی دیکھا تو اس دین کے ساتھ ان کا ایمان بھی شامل ہو گیا اور وہ دلوں کی گہرائی اور بشاشت میں پہنچ گیا تو اگر ایسے شخص کو یہ اختیار دیا جائے کہ اسے آگ میں ڈالا جائے یا وہ کوئی دوسرا دین پسند کر لے تو وہ آگ میں ڈالے جانے کو کوئی دوسرا دین اختیار کرنے پر ترجیح دے گا اور یہ قسم [1] مفتاح دار السعادۃ لابن القیم ، ص: ۳۲۴۔