کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 65
اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یُنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ کہ آپ اپنے اخلاق اور اپنے قول کے ساتھ عمل اور دین اور تمام حالات کے ساتھ ایمان کی دعوت دے رہے تھے: ﴿ فَآمَنَّا﴾(آل عمران: ۱۹۳) ’’ہم ایمان لائے‘‘ یعنی ہم ایسا ایمان لائے کہ جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ یہاں تک کہا کہ ایک آدمی جو انصاف والا ہو، جس کے دل میں صرف حق کی پیروی کرنا ہو تو صرف اس کی بات سننے پر ہی وہ جلد ایمان لے آتا ہے اور آپ کی رسالت میں شک نہیں کرتا، بلکہ ان میں سے بہت سے لوگ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ پر انوار دیکھتے تو پہچان لیتے کہ یہ چہرہ جھوٹے آدمی کا نہیں ہو سکتا۔[1] ٭٭٭ [1] التوضیح والبیان، لشجرۃ الایمان ، حمد آل سعدی، ص: ۷۶۔