کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 63
عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ)) [1] ’’تم خوش ہو جاؤ پس اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہ کرے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی بات کرتے ہیں، بوجھ والے کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں۔مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی مصیبتوں پر امداد کرتے ہیں۔‘‘ شیخ ابن سعدی رحمہ اللہ نے کہا: ’’ایمان کے اسباب و موجبات میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننا بھی ہے اور اس چیز کو بھی پہچاننا ہے جس کے آپ مالک تھے۔ مثلاً اعلیٰ اخلاق اور کامل اوصاف جن سے آپ متصف تھے۔ کیونکہ جو شخص انھیں اچھی طرح جانتا ہو اور اس کی معرفت رکھتا ہو وہ کبھی بھی آپ کی صداقت پر اور جو آپ کتاب و سنت لائے ہیں اس کی صداقت پر شک نہیں کرتا اور نہ اس پر جو سچا دین آپ نے پیش کیا، جیسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿ أَمْ لَمْ يَعْرِفُوا رَسُولَهُمْ فَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ﴾ (المومنون: ۶۹) ’’کیا انھوں نے اپنے رسول کو پہچانا نہیں تو وہ اس کا انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ ان چیزوں کی معرفت بندے کو ایمان کی طرف مزید بڑھنے کی طاقت دیتی ہے اور جو ایمان دار نہیں ہے اسے ایمان دار بناتی ہے۔ اللہ تعالیٰ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم (جو ایمان کے داعی ہیں ) کی سیرت و احوال میں تدبر کرنے پر یوں برانگیختہ کر رہا ہے: ﴿ قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَى وَفُرَادَى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ﴾ (سبا: ۴۶) ’’کہہ دیجیے میں تمھیں ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم دو دو ہو کر یا اکیلے [1] صحیح بخاری، کتاب بدء الوحی، ح: ۳۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، ح: ۱۶۰۔