کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 60
پھر حدیث میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس صفت پر غور و فکر کرے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: (( مَا خُیِّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم بَیْنَ أَمْرَیْنِ، إلَّا أَخَذَ أَیْسَرَہُمَا، مَا لَمْ یَکُنْ إِثْمًا، فَإِذَا کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدُ النَّاسِ مِنْہُ، وَمَا انْتَقَمَ لِنَفْسِہٖ إِلَّا أَنْ تَنْتَہک مَحَارَمَ اللّٰہِ فَیَنْتَقِمُ لِلّٰہِ بِہَا)) [1] نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو معاملوں کے درمیان اختیار دیا جاتا تو آپ ان میں سے آسان ترین معاملے کو لے لیتے، جب تک کہ وہ گناہ نہ ہوتا، اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ اس سے بہت دور رہنے والے ہوتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کبھی بھی انتقام نہیں لیا، مگر جب اللہ تعالیٰ کے محارم کو توڑا جاتا تب اس شخص سے آپ انتقام ضرور لیتے۔‘‘ اسی طرح اس حدیث میں غور و فکر کرے جو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ((خَدِمْتُہٗ صلي اللّٰه عليه وسلم عَشْرَ سِنِیْنَ، فَوَاللّٰہِ مَا قَالَ لِيْ أُفًّ قَطُّ، وَلَا قَالَ لِشَیْئٍ فَعَلْتُہٗ لِمَ فَعَلْتَ کَذَا، وَلَا لِشَیْئٍ لَمْ أَفْعَلْہُ، أَلَّا فَعَلْتَ کَذَا)) [2] ’’میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی، تو اللہ کی قسم! مجھے کبھی آپ نے اف تک نہ کہا اور نہ ہی آپ نے جس کام کو میں نے کیا ہو تو آپ نے فرمایا ہو کہ تو نے یہ کام کیوں کیا اور نہ ہی اس کام کا جو میں نے نہ کیا ہو تو آپ نے فرمایا ہو کہ تو نے یہ کام کیوں نہیں کیا۔‘‘ اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں غور کرے، وہ کہتے ہیں : [1] صحیح بخاری، کتاب المناقب، ح: ۳۵۶۰ ۔ صحیح مسلم، کتاب الفضائل، ح: ۲۳۲۷۔ [2] صحیح بخاری ، کتاب الدیات، ح: ۶۹۱۱ ۔ صحیح مسلم، کتاب الفضائل، ح: ۲۳۰۹۔