کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 58
انھی کے ہاتھوں پر ہے۔ تو اچھے اقوال و افعال اور اعلی اخلاق و فضائل کی معرفت صرف انھی کی ہدایت سے حاصل ہو سکتی ہے۔ تو وہی راجح ترازو ہیں جن کے اقوال و اعمال اور اخلاق پر تمام اخلاق اور اقوال و اعمال تولے جاتے ہیں اور ان کی متابعت سے ہدایت یافتہ لوگوں اور گمراہوں کے درمیان تمیز حاصل ہوتی ہے۔ تو لوگوں کو ان رسولوں کی ضرورت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اس قدر جسم کو روح کی ضرورت بھی نہیں ہوتی اور جتنی آنکھوں کو روشنی کی بھی ضرورت نہیں ہوتی اور جتنی روح کو اپنی زندگی کی ضرورت نہیں ہوتی، تو بندے کو جتنی ضرورت بھی کسی چیز کی طرف ہو رسولوں کی طرف اس کی ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس شخص کے متعلق تمھارا کیا گمان ہے کہ جس کی راہنمائی تجھ سے غائب ہو جائے اور آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تمھارے پاس نہ آئے تو تمھارا دل کس قدر بگڑ جائے گا گویا اس مچھلی کی طرح ہو جائے گا جو پانی سے نکال کر وہ کڑاہی میں ڈال دی گئی ہو، یوں اس آدمی کا حال ہوتا ہے جس کا دل انبیاء کی لائی ہو نصیحتوں سے دور ہو جائے، بلکہ اس سے زیادہ اس کا حال خراب ہو جاتا ہے، مگر اسے وہ زندہ آدمی کا دل ہی محسوس کر سکتا ہے۔ کیونکہ مردہ کو زخم دینے سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔[1] چونکہ آدمی کی نیک بختی دونوں جہانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت سے معلق ہے، تو اس لیے جو شخص اپنے نفس کی خیرخواہی چاہتا ہو اور اپنی خوش بختی اور نجات کو پسند کرتا ہو اس پر لازم ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اور سیرت کو پہچانے اور ایسے حالت سے نکل جائے جو جاہلین کی ہوتی ہے اور آپ کے پیروکاروں اور آپ کی جماعت والوں کی تعداد میں سے ہو جائے اور لوگ اس مسئلے میں درمیانی راہ پر چلتے ہیں، کچھ کم لیتے ہیں کچھ زیادہ اور کچھ محروم ہو جاتے ہیں۔اللہ کا فضل اسی کے ہاتھ میں ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور وہ بڑے فضل والا ہے۔[2] [1] زاد المعاد لابن القیم: ۱؍۶۹ الناشر: مؤسسۃ الرسالۃ۔ [2] زاد المعاد لابن القیم : ۱؍ ۶۹، ۷۰۔