کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 56
نہیں کیے گئے اور نہ ہی اس نے انسان کو بے کار چھوڑا۔ بلکہ مخلوق کو اس نے اپنی توحید و عبادت کے قیام کے لیے پیدا کیا اور ان پر اپنی نعمتیں مکمل کر دیں تاکہ وہ ان کا شکریہ ادا کریں اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو مزید کرامات عطا فرمائے۔ اس نے اپنے بندوں کو اپنے مختلف تعارف کرائے اور ان کے لیے اپنی آیات بار بار پیش کیں اور مختلف اقسام کے دلائل اور راہنمایاں بیان کیں اور اس نے انھیں محنت کے تمام دروازوں سے اپنی طرف بلایا اور اپنے اور ان کے درمیان زیادہ طاقت ور اسباب بڑھائے تو ان پر اپنی نعمتیں مکمل کیں اور ان پر اپنی حجت بالغہ قائم کی اور ان پر اپنی عنایات کی بارش کر دی اور اپنے اوپر رحمت کو لازم قرار اور اپنی کتاب میں یہ چیز شامل کر دی کہ اس کی رحمت نے اس کے غضب کو مغلوب کر دیا۔‘‘[1] تو جس شخص کی معرفت اس طرح کی ہو اور اس بصیرت میں وہ سمجھ حاصل کرے تو اس کی سمجھ ایمان کے لحاظ سے تمام لوگوں سے زیادہ مضبوط ہو گی ،اور بزرگی اور تعلیم کے لحاظ سے بہترین ہو گی، طاعت و تقرب کے لحاظ سے بہت زیادہ ہو گی اور لوگ اس میں فرق والے ہیں، کچھ کم دے رہا ہے اور کچھ زیادہ۔ ٭٭٭ [1] مدارج السالکین لابن القیم : ۱؍ ۱۴۴۔