کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 50
نے ان کو سمجھا ہے تو ایسا شخص ایمان میں زیادتی کے اسباب سے نوازا گیا۔ صحیحین میں سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث مروی ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اِنَّ لِلّٰہِ تِسْعَۃً وَّ تِسْعِیْنَ اِسْمًا، مِائَۃً اِلَّا وَاحِدًا، مَنْ اَحْصَاہَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ)) [1] ’’اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، یعنی ایک کم سو (۱۰۰) جو انھیں شمار(یعنی حفظ) کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔‘‘ شمار کرنے سے یہ مراد نہیں کہ ان کو شمار کر لے، کیونکہ یہ کام تو فاجر فاسق لوگ بھی کر لیتے ہیں بلکہ اس سے مراد عمل کرنا ہے۔ [2] لہٰذا اسماء و صفات کا سمجھنا ضروری ہے اور جن معانی پر وہ دلالت کرتے ہیں انھیں جاننا ضروری ہے تاکہ ان سے بھر پور استفادہ کر سکے۔ امام ابو عمر طلمنکی رحمہ الله کہتے ہیں : ’’ اسماء و صفات کی پوری معرفت جس سے دعا کرنے والا اور حفظ کرنے والا شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مستحق بن جاتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے، وہ اسماء و صفات اور ان پر مشتمل حقائق و فوائد کی معرفت ہے اور جو شخص اسماء و صفات کے معانی کا عالم نہ ہو وہ اسماء و صفات کا نہ عالم ہو گا اور نہ اس معانی کی دلالت سے استفادہ کرنے والا ہو گا۔‘‘[3] امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اسمائے حسنیٰ شمار کرنے کے تین مراتب ذکر کیے: (۱) .....ان کے الفاظ اور تعداد کو یاد کرنا (۲) .....ان کے معانی اور مفاہیم کو جاننا [1] صحیح بخاری، کتاب الشروط، ح: ۲۷۳۶۔ صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء،ح: ۲۶۷۷۔ [2] فتح الباری لابن حجر : ۱۱؍ ۲۲۶۔ [3] فتح الباری لابن حجر: ۱۱؍ ۲۲۶۔