کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 49
کے اختیار میں ہے، اسی طرح عطا کرنا اور روکنا نیز پیدائش و رزق بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اور زندگی و موت کا بھی وہی مالک ہے تو یہ چیز باطنی طور پر اسے اللہ تعالیٰ پر توکل کی عبودیت کا فائدہ دیتی ہے اور توکل کے لوازم و ثمرات ظاہر ہیں۔ جب ایک شخص یہ بات معلوم کر لے کہ اللہ تعالیٰ سمیع و بصیر ہے، آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز بھی اس پر پوشیدہ نہیں رہ سکتی تو وہ آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے بھید تک جانتا ہے۔ تو یہ علم اسے حفاظت زبان و جوارح کا ثمرہ دے دیتا ہے، نیز اس کے دل پر اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والے خطرات و وساوس سے پرہیز کا ثمرہ بھی ڈال دیتا ہے، مزید یہ فائدہ بھی اسے دیتا ہے کہ وہ ان اعضاء و جوارح کے ساتھ وہ چیز جوڑ دے جنھیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا اور دوست رکھتا ہے۔ جب یہ بات جان لے کہ اللہ تعالیٰ سمیع و بصیر ہونے کے ساتھ ساتھ غنی و کریم اور اچھا کرنے والا، رحم والا اور وسیع احسانات والا ہے تو یہ چیز اسے امید کی قوت عطا کرتی ہے جو معرفت اور علم کے مطابق ظاہر و باطنی انواع عبودیت کا ثمرہ دیتی ہے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کے کمال و جمال کو جانتا ہے تو وہ علم اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا عظیم شوق پیدا کرتا ہے جو مختلف انواع عبادت کا فائدہ اسے دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام عبودیت اسماء و صفات کی مقتضیات کی طرف لوٹ آئی ہے۔ [1] جب کوئی شخص اپنے رب کو حقیقی مطلوبہ معرفت سے پہچان لیتا ہے، کجی اور زیغ کے تمام طرق سے پاک صاف اور صحیح و سالم سمجھتا ہے، اسماء و صفات کی تحریف و تعطیل، تشبیہ و تکییف سے پاک جانتا ہے اور مناہج کلامیہ باطلہ سے دور رہتا ہے جو درحقیقت بندے اور اس کے رب کی معرفت کے درمیان بطور پردہ حائل ہیں اور ایمان کو کمزور، ناقص کر دینے والے ہیں اور جب بندہ اپنے رب کو اسمائے حسنیٰ اور بلند صفات کے ساتھ پہچان لے جن کے ذریعے اس نے لوگوں کو واقف و آگاہ کیا اور جو قرآن و حدیث میں وارد ہیں اور سلف کے منہج پر اس [1] مفتاح دار السعادۃ لابن القیم، ص: ۴۲۴، ۴۲۵۔ الفوائد لابن القیم ، ص: ۱۲۸۔۱۳۱۔