کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 46
تو مومن کے لیے لازم ہے کہ وہ قرآن مجید کو پڑھنے سے پہلے قرآن سے استفادہ کرنے کی کیفیت سیکھ لے، یہاں تک کہ وہ قرآن سے صحیح طور پر نفع حاصل کر سکے۔ ابن قیم رحمہ اللہ نے اس بارے میں ایک بہت بڑا قاعدہ بیان کیا ہے جو بہت ہی زبردست اور نفع بخش ہے۔ انھوں نے کہا:’’جب تم قرآن سے فائدہ حاصل کرنا چاہو تو اس کی تلاوت اور استماع کے وقت اپنے دل کو مجتمع رکھو اور اپنے کان مکمل اس طرف لگا دو اور اپنا دل اس طرح حاضر کرو کہ گویا کہ تم اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہو اور اللہ وحدہ لا شریک لہ تم سے مخاطب ہیں۔‘‘[1] پس جو شخص اس قاعدے کے مطابق چلے گا اور قرآن مجید کی تلاوت اور استماع اسی منہج پر کرے گا تو علم و عمل دونوں میں کامیاب ہو جائے گا اور اس کا ایمان بڑھ کر مضبوط و بلند و بالا چٹانوں کی طرح ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ سے ہمارا یہ سوال ہے کہ وہ ہمیں ہر خیر کی توفیق عطا فرمائے۔ پھر یہ بات سمجھ لیں کہ اللہ عزوجل کی آیات میں فکر و تدبر دو طرح کا ہے، ایک فکر جو اللہ کی مراد کے مطابق ہے اور دوسری فکر یہ ہے کہ اس چیز کے معانی سوچے کہ جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو فکر کرنے کی دعوت دی ہے۔ پہلی قسم قرآنی دلائل سوچنے کے متعلق ہے اور دوسری فکر اس دلیل کو سوچنا ہے جو سامنے نظر آ رہی ہے اور پہلی فکر ان آیات کے متعلق ہے جو سنی جاتی ہیں اور دوسری فکر ان آیات میں ہے جو دیکھی جاتی ہیں۔[2] یہ بات ابن قیم رحمہ اللہ نے کہی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ وہ کلام جو میں نے بیان کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ان آیات میں سوچنے کے متعلق ہے جو سنی جاتی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی ان آیتوں کے متعلق سوچنا جو دیکھی جاتی ہیں ان کے متعلق بحث اگلے صفحات میں آئے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ! ٭٭٭ [1] الفوائد لابن القیم ، ص: ۵۔ الفتاوی لابن التیمیۃ: ۱۶؍۴۸۔۵۱، ۷؍۲۳۶۔۲۳۷۔ [2] مفتاح دار السعادۃ لابن القیم ، ص: ۲۰۴۔