کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 45
انھوں نے اس پر پھڑپھڑانا شروع کر دیا اور اس کے ساتھ (ایک دوسرے سے) مقابلہ کرنے لگے اور اپنی عمریں بغیر کسی ضرورت کے تباہ کر دیں۔پھر جب وہ فوت ہوتے ہیں تو قرآن کو انھوں نے اس طرح سیدھا کر لیا ہوتا ہے جس طرح تیروں کو پھینکتے ہوئے سیدھا کیا جاتا ہے۔ وہ اس کے معانی کو توڑ دیتے ہیں جس طرح برتنوں کو توڑا جاتا ہے تو اس پرکوئی معنی بھی جوڑ نہیں کھاتا۔‘‘[1] شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ صاحب قرآن، لوگوں کی حالت یوں بیان کرتے ہیں : ’’وہ شخص جو بلند درجات حاصل کرتا ہے اور اعلیٰ مقامات پر فائز ہوتا ہے وہ ہے جو قرآن مجید کے معانی میں ہمیشہ غور و فکر کرے اور اس کے الفاظ میں بھی فکر کرے اور قرآن کے معانی جاننے پر وہ اپنے آپ کو غنی سمجھے اسی طرح لوگوں کے کلام کی بہ نسبت اللہ تعالیٰ کے احکام کا خیال رکھے اور جب لوگوں کے کلام یا علوم سے کچھ سنے تو اسے قرآن پر پیش کرے تو اگر وہ اس کے تزکیہ کی شہادت دے تو اسے قبول کرے بصورت دیگر اسے رد کر دے۔ اگر اس بات کو نہ تو قبول کرتا ہے اور نہ ردّ کرتا ہے تو وہاں توقف کیا جائے اور اپنی ہمت کو اپنے رب کی مراد یعنی اس کے قرآن سے سمجھنے پر لگا دے۔ اپنا مقصد اس چیز میں نہ سمجھے جو اس کے سامنے اکثر لوگ ایسے علوم پیش کرتے ہیں جن سے اس کے سامنے قرآن کے حقائق سے حجاب آ جائے۔ یا تو حروف کو باریک کرنے میں یا ان کے مخرج کی ادائیگی کے وسوسے میں نہ پڑ جائے، اسی طرح کئی حروف کو موٹا کرنے اور بعض کو امالہ کرنے اور بعض کو لمبی مد کے ساتھ بولنے اور بعض کو چھوٹی یا درمیانی مد دینے میں مصروف رہے۔ کیونکہ یہ چیزیں دلوں کے سامنے حائل ہونے والی ہیں اور اپنے رب کے کلام سے اس کی مراد سمجھنے سے کاٹ دینے والی ہیں۔‘‘[2] [1] العواصم من القواصم لابن العربی: ۲؍ ۴۸۶۔ زغل العلم للذہبي، ص: ۲۵۔۲۷۔ [2] الفتاویٰ: ۱۶؍۵۰۔