کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 42
ہوئے جب انھوں نے قرآن میں تدبر، تلاوت اور اس پر عمل کرنا ترک کر دیا۔‘‘[1] تو قرآن مجید ایمان کے عظیم مقویات میں سے ہے اور اس میں اضافے کے عظیم اور نفع بخش اسباب میں سے ہے۔ یہ بندے کے ایمان کو کئی وجوہ سے بڑھا دیتا ہے۔ ابن سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں : ’’قرآن مجید ایمان کو کئی وجوہ سے مضبوط بنا دیتا ہے۔ پس مومن صرف اللہ کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور اس میں جو سچی خبریں اور احکام بیان کیے گئے ہیں انھیں پہچانتا ہے، تو یوں اسے ایمانی امور سے خیر کثیر حاصل ہوتی ہے۔ جب صرف تلاوت کی وجہ سے اسے اتنی عظیم المرتبت بھلائی حاصل ہو جاتی ہے تو اس میں تامل اور غور و فکر کرنا اور اس کے مقاصد و اسرار کو سمجھنا بہت عظیم مرتبہ رکھتا ہے۔‘‘[2] لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ وہ ایمان جو قراء ات قرآن سے بڑھتا ہے وہ صرف اس وقت بڑھتا ہے جب آدمی قرآن کو سمجھنے کا اہتمام کرے اور اس پر عمل کرنے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنے کا خیال کرے۔ یہ صرف تلاوت کرنے سے جو فہم و تدبر کے علاوہ ہو حاصل نہیں ہو سکتا، ورنہ کتنے ہی قاری ایسے ہیں جو قرآن تو پڑھتے ہیں، لیکن قرآن ان سے جھگڑے گا اور قیامت کے دن اس سے اختلاف کرے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: ((إنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِہٰذَا الْکِتَابِ أَقْوَامًا وَ یَضَعُ بِہٖ آخَرِیْنَ)) [3] ’’اللہ تعالیٰ اس کتاب (یعنی قرآن) کے ساتھ کئی قوموں کو بلند کرتا ہے اور کئی دوسرے لوگوں کو پست کر دیتا ہے۔‘‘ [1] تفسیر المنار مؤلف: محمد رشید بن علی، ص: ۹؍۴۶۳۔ [2] التوضیح والبیان لشجرۃ الإیمان لابن سعدی ، ص: ۲۷۔ [3] صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، ح: ۸۱۵۔