کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 41
قرآن کے ذوق کی بہت زیادہ دعوت دینے والی ہے۔‘‘[1] شیخ محمد رشید رضا رحمہ اللہ کہتے ہیں : ’’یہ بات جان لو کہ دین کی طاقت اور ایمان و یقین کا کمال صرف قرآن مجید کی تلاوت اور اسے بکثرت سننے سے ہی حاصل ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ اس قراء ات و استماع سے ہدایت حاصل کرنے اور اس کے امر و نہی پر عمل کرنے کی نیت ہو اور اس پر غور و فکر بھی کیا جائے اور وہ ایمان جو یقینی اور صحیح ہو وہ بڑھتا بھی ہے اور قوی ہو کر نشوو نما بھی پاتا ہے اور اس پر اس کے وہ آثار بھی مرتب ہوتے ہیں جس کا نتیجہ اعمال صالحہ اور نافرمانیوں اور فساد کو ترک کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ جس قدر قرآنی تدبر ہو گا اسی قدر ایمان میں زیادتی ہو گی اور جتنا تدبر کم ہو گا اتنا ہی ایمان کمزور ہو گا۔ اکثر عرب لوگ قرآن کو سن اور سمجھ کر مسلمان ہوئے اور انھوں نے بہت سے ممالک کو فتح کیا، شہروں کو آباد کیا اور ان کی آبادی پھیلتی گئی، اور وہ غالب آتے گئے۔ یہ سب قرآنی ہدایات کی تاثیر کا نتیجہ تھا۔ اہل مکہ اور ان کے سردار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ اور قتال کرتے تھے اور انھیں اپنے رب کی دعوت پہنچانے سے روکتے تھے اور یہ سب قرآن سے روکنے کے ذریعے تھا کہ آپ لوگوں پر قرآن کی تلاوت نہ کریں کہ وہ کہیں مسلمان نہ ہو جائیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ﴾ (فصلت: ۲۶) ’’کافروں نے کہا کہ اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں شور و غوغا کرو تاکہ تم غالب آ جاؤ۔‘‘ اسلام قرونِ وسطیٰ میں اس وقت کمزور ہوا، اکثر مسلمان ممالک پستی کا شکار اس وقت [1] مفتاح دار السعادۃ لابن القیم ، ص: ۲۰۴۔