کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 30
’’میں نہیں چاہتا کہ جس کام سے تمھیں روکوں خود اس کا ارتکاب کروں، میں اپنی طاقت کے مطابق اصلاح چاہتا ہوں اور اللہ کی مدد کے بغیر مجھے کوئی بھی کام کرنے کی توفیق نہیں، اسی پر میرا بھروسا ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جاؤں گا۔‘‘ ان کے علاوہ اور بھی نصوص ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں۔اس بارے میں سلف سے بھی بہت سے اقوال منقول ہیں جو بہت قابل قدر اور نہایت فائدہ بخش ہیں جنھیں علماء نے اپنی مولفات میں ذکر کیا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’علم دو طرح کا ہوتا ہے: ٭......ایک وہ علم جو دل میں ہو ٭...... اور دوسرا وہ جو زبان پر ہو جو علم دل میں ہو وہ علم نافع ہے اور جو علم زبان پر ہو وہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر حجت ہے۔‘‘[1] دوسری جگہ فرمایا: ’’تو فقیہ وہ ہو گا جس کا دل فقیہ ہو۔ وہ فقیہ نہیں ہوتا جو صرف زبانی خطیب ہو اور کبھی کبھی دل کو علم و فقہ کے بڑے عظیم امور حاصل ہوتے ہیں، مگر صاحب علم اس کے ساتھ غیر کو مخاطب نہیں کر رہا ہوتا اور کبھی کبھی دوسروں کو ایسے کثیر دلی معارف سے خطاب کرتا ہے جن سے وہ خود خالی ہوتا ہے۔‘‘[2] گزشتہ سطور سے علم کی قدر و منزلت اور اس کے فوائد و منافع معلوم ہو گئے اور ایمان کی قوت و ثبات پر اس کی قوت تاثیر معلوم ہو گئی اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ علم ایمان کی زیادتی [1] یہ امام حسن بصری رحمہ اللہ کا کلام ہے جسے امام دارمی نے بیان کیا ہے۔ سنن دارمی، ح: ۳۷۶ وسندہ صحیح۔ [2] درء التعارض العقل والنقل لابن تیمیہ : ۷؍ ۴۵۳، ۴۵۴۔