کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 21
((مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَطْلُبُ فِیْہِ عِلْمًا سَلَکَ اللّٰہُ بِہٖ طَرِیْقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّۃِ، وَإِنَّ الْمَلَائِکَۃَ لَتَضَعُ اَجْنِحَتَہَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رَضِیَ بِمَا یَصْنَعُ، وَ اِنَّ الْعَالِمَ لَیَسْتَغْفِرُ لَہٗ مَنْ فِي السَّمٰوَاتِ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ وَالْحِیْتَانُ فِيْ جَوْفِ الْمَائِ، وَ إِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ عَلٰی سَائِرِ الْکَوَاکِبِ، وَاِنَّ الْعُلَمَائَ وَرَثَۃُ الْأَنْبِیَائِ، وَ اِنَّ الْأَنْبِیَائَ لَمْ یُوَرِّثُوْا دِیْنَارًا وَلَا دِرْہَمًا، إِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَہٗ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ)) [1] ’’جو شخص (دینی) علم حاصل کرنے کسی راستے پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے خیر کے راستوں سے ایک راستے پر چلا دیتے ہیں اور یقیناً فرشتے، طالب علم کے اس کام سے خوش ہو کر اس کی راہ میں اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور صاحب علم کے لیے آسمانوں اور زمین کی تمام اشیاء استغفار کرتی ہیں۔حتیٰ کہ پانی کے پیٹ میں مچھلیاں بھی، اور عبادت گزار آدمی پر صاحب علم کی اس طرح فضیلت ہے جس طرح چودھویں رات کے چاند کی باقی تمام ستاروں پر ہے اور علماء انبیاء کے وارث ہوتے ہیں اور انبیائے کرام نے کسی شخص کو درہم و دینار کا وارث نہیں بنایا بلکہ وہ علم کے وارث بناتے ہیں تو جو بھی اسے لیتا ہے تو بہت زیادہ حصہ حاصل کرتا ہے۔‘‘ ترمذی وغیرہ میں ابو امامہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِيْ عَلٰی أَدْنَاکُمْ، إِنَّ اللّٰہَ [1] المسند، ح: ۲۱۷۱۵۔ ابوداؤد، ح: ۳۶۴۱۔ ترمذی، ح: ۲۶۸۲۔ ابن ماجہ،ح: ۲۲۳۔ ابن حبان (الاحسان) ، ح: ۸۸۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے، دیکھئے: صحیح الجامع، ح: ۶۲۹۷۔