کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 166
ایک دوسری حدیث میں ہے: سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لَا یَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ فِی قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃِ خَرْدَلٍ مِّنْ إِیمَانٍ،وَّلَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ أَحَدٌ فِی قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃِ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرِیَائَ۔)) [1] ’’کوئی بھی ایسا شخص جہنم میں نہیں جائے گا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے برابر بھی ایمان ہوا۔ اور کوئی بھی ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے برابر بھی تکبر ہوا۔‘‘ اسی لیے اہل السنۃ والجماعۃ سلفی اہل الحدیث سوائے ایسے گناہ کے کہ جس سے اصل ایمان ہی زائل ہو جائے، اہل قبلہ ( مسلمانوں ) کے کسی بھی شخص پر کسی بھی گناہ کی وجہ سے کفر کا فتویٰ نہیں لگاتے۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشادِ گرامی قدرہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا ﴾ (النساء:۴۸) ’’بے شک اللہ شرک کو تو بخشنے والا نہیں اور شرک کے سوا ( جو گناہ ہیں ) جس کو چاہے بخش دے ( اور جس کو چاہے نہ بخشے عذاب کرے) اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس نے بڑا گناہ باندھا۔‘‘ [2] [1] کے ہاں قابل قبول ہو گا جو شرک و بدعات سے تائب رہا اگرچہ اس کے دل میں ایمان پہلے شخص سے بھی کم مقدار یعنی گندم کے دانے برابر بھی کیوں نہ ہوا۔ بعینہٖ اس آدمی کا ایمان بھی قبول کر لیا جائے گا جس کی موت شرک و بدعات پر نہ ہوئی اگرچہ اُس کے دل میں ایمان ان دونوں آدمیوں سے بھی کم اور نہایت ہی چھوٹی مقدار یعنی ذرّہ بھر بھی کیوں نہ ہوئی۔  صحیح مسلم؍ کتاب الایمان؍ حدیث: ۲۶۶۔ [2] یہود کو تہدید و و عید فرمانے کے بعد اس آیت میں اشارہ فرمایا کہ تہدید شرک و کفر کی وجہ سے ہے ورنہ دوسرے گناہ توقابل عفو و مغفرت ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت ہیں ۔ جسے چاہے اللہ تعالیٰ معاف فرما سکتے ہیں ۔ (