کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 165
اور جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: ایمان کے تھوڑے سے حصے کو بھی قبول کرتے ہوئے اللہ کریم ایسے شخص کو جہنم سے باہر نکال دیں گے جو اس میں (اپنے گناہوں کی وجہ سے) داخل ہو چکا ہو گا۔ سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَخْرُجُ مِنَ النَّارِمَنْ قَالَ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ، وَفِی قَلْبِہِ وَزْنُ شَعِیرَۃٍ مِنْ إِیْمَانٍ، وَیَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَفِی قَلْبِہٖ وَزْنُ بُرَّۃٍ مِنْ إِیْمَانٍ، وَیَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَفِی قَلْبِہِ وَزْنُ ذَرَّۃٍ مِنْ خَیْرٍ (إِیْمَانٍ۔)) [1] ’’جس شخص نے (صدق دل سے) کہہ دیاکہ : اللہ عزوجل کے سواکوئی معبودِ برحق نہیں ہے، وہ جہنم سے ( ضرور ایک دن) باہر نکل آئے گا۔ چاہے اس کے دل میں ایک جَو کے وزن کے برابر بھی ایمان ہوا تو۔ اور وہ آدمی بھی جہنم سے (ایک نہ ایک دن) باہر نکل آئے گا کہ جس نے (صدقِ دل سے ) کہہ دیا کہ: اللہ کبریاء کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔ چاہے اس کے دل میں گیہوں (گندم) کے ایک دانے برابر بھی ایمان ہوا تو۔ اور اسی طرح وہ شخص بھی جہنم سے (ایک نہ ایک دن) باہر نکل آئے گا کہ جس نے (صد قِ دل سے) کہہ دیاکہ : اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔ چاہے اس کے دل میں ایک ذرّہ ( صغیر ترین مقدار : صلی اللہ علیہ وسلم) بھر بھی ایمان ہوا تو۔‘‘ [2] [1] صحیح البخاری؍ کتاب الایمان؍ حدیث: ۴۴ و کتاب التوحید؍ حدیث: ۷۵۱۰ و صحیح مسلم؍ کتاب الایمان؍ حدیث: ۴۷۸۔ [2] فاضل مصنف حفظہ اللہ یہاں اس حدیث مبارک کو نہیں لا سکے ، مگر جو مسئلہ یہاں اس حدیث کے استنباط سے بیان کیا وہ یہ ہے کہ : اہل السنۃ والجماعۃ سلف صالحین اس بات پر ایمان رکھتے کہ: اللہ رب العالمین کے ہاں ایمان کی مختلف مقداریں بھی ، مختلف لوگوں سے قبول کر لی جائیں گی۔ یعنی کوئی صدق دل کے ساتھ ایمان لا کر پوری زندگی شرک و خرافات اور بدعات سے بچتا رہا تو اس کا یہ ایمان اللہ کے ہاں قابل قبول ہو گا اگرچہ اس ایمان کی مقدار اس مسلمان کے دل میں ایک جَو کے دانے کے برابر بھی کیوں نہ ہو گی۔ اس طرح اس آدمی کا بھی ایمان رب العالمین (