کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 164
ضرور جنت میں جائے گا۔‘‘ [1] جناب منصور بن معتمر، جناب مغیرہ، اعمش، لیث، عمارہ بن قعقاع، ابن شبرمہ، العلاء بن مسیب، یزید بن ابو زیاد، سفیان ثوری، عبداللہ بن مبارک اور دیگر ان گنت علماء عظام و محدثین کرام و فقہاء کبار رحمہم اللہ جمیعاً ایمان کے بارے ’’ان شاء اللہ‘‘ کا کلمہ استعمال فرماتے اور جو اس ضمن میں ’’ان شاء اللہ ‘‘ نہ کہتا اُس پر عیب لگاتے تھے۔ [2] امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ایمان کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ’’ایمان زبان سے اقرار، اعضائِ وجود سے عمل اور نیت، تینوں سے مل کر مکمل ہوتا ہے۔‘‘ ان سے پوچھا گیا : اگر کوئی شخص کسی دوسرے آدمی سے پوچھے: کیا تم مومن ہو؟ اور وہ کہے: ہاں۔تو اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ فرمایا: ’’ یہ بدعت ہے۔‘‘ پوچھا گیا: تو وہ آدمی پوچھنے والے سے کہا کہے؟ فرمایا: وہ کہے: مُؤْمِنٌ اِنْ شَائَ اللّٰہُ۔ اہل السنہ والجماعۃ اہل الحدیث سلفی حضرات کے نزدیک ..... بندے سے ایسے کسی فعل کے ارتکاب سے ایمان کا وصف سلب نہیں کیا جاتا کہ جس کا ارتکاب کرنے والا قابل احتیاط افعال کا انکار نہ کرتا ہو۔ یا وہ کسی ایسے واجب کام کو چھوڑ دے کہ یہ چھوڑنے والا فرائض و واجبات میں سے کسی کا انکار نہ کرتا ہو۔ ( کسی بھی واجب یا فرض کا وہ منکر نہ ہو مگر غلطی یا سستی کی وجہ سے کوئی فرض چھوڑ بیٹھے تو اُسے ایمان سے خارج شمار نہیں کیا جائے گا۔) اور بندہ کبھی بھی ایمان سے خارج نہیں ہوتا مگر صرف ایسے کسی فعل کے ارتکاب کے ذریعے کہ جو ایمان کے نواقض میں سے شمار ہوتا ہو۔ اسی طرح کسی کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے بھی بندہ ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ وہ دنیا میں ناقص الایمان بندہ شمار ہو گا کہ جو اپنے ایمان کے ساتھ مومن ہو گا اور اپنے ارتکابِ کبیرہ کی بنا پر فاسق و فاجر۔ جب کہ آخرت میں وہ اللہ عزوجل کی مرضی و مشئیت کے تابع ہو گا۔ اگر اللہ کریم و رحیم چاہے گا تو اسے معاف کر دے گا اور اگر چاہے گا تو اسے عذاب و سزا دے گا۔‘‘ [1] دیکھیے: امام لالکائی کی کتاب ’’شرح اُصولِ اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ‘‘ [2] ایضاً