کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 163
زیادہ دلائل اور علماء عظام کے اقوال موجود ہیں۔جیساکہ اللہ رب العالمین کا ارشادِ گرامی قدر ہے: ﴿ وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا ، إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلْ عَسَى أَنْ يَهْدِيَنِ رَبِّي لِأَقْرَبَ مِنْ هَذَا رَشَدًا ﴾ (الکہف :۲۳۔۲۴) ’’ اور کسی بات کو مت کہہ میں کل اس کو کروں گا۔ مگر یوں کہ اللہ چاہے تو۔ اور اگر تو (ان شاء اللہ کہنا) بھول جائے (تو جب خیال آئے) اپنے مالک کی یاد کر (یعنی ان شاء اللہ کہ لے ) اور کہہ دے مجھے امید ہے کہ میرا رب اس سے بھی زیادہ ہدایت کی بات مجھ کو بتلادے گا۔‘‘ دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ فَلَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى﴾ (النجم: ۳۲) ’’پس اپنی پاکیزگی مت جتاؤ۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون پرہیز گار ہے۔‘‘ سیّدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبرستان کی طرف جانے کے وقت (کہ جب ہم قبرستان میں داخل ہوں ) یوں سکھایا تھا۔ یوں کہا کرو: ((اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ اَہْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَاِنَّا اِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَلَا حِقُوْنَ، أَسْأَلُ اللّٰہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِیَۃَ)) [1] ’’اہل ایمان اور مسلمانوں کے گھروں (قبروں ) والو! تم پر سلام ہو۔ بلاشبہ ہم اللہ نے چاہا تو تم لوگوں سے ضرور ملنے والے ہیں۔میں اللہ عزوجل سے اپنے لیے اور تمہارے لیے (اللہ کی گرفت سے) عافیت کا سوال کرتا ہوں۔‘‘ (یہاں ان شاء اللہ یقین کے معنی میں ہے۔) سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’جو شخص اپنے نفس پر (پورے یقین کے ساتھ) اس بات کی گواہی دے کہ بلاشک و شبہ وہ مومن ہے تو وہ اس بات کا بھی گواہ رہے کہ بلاشبہ وہ [1] رواہ مسلم ؍ کتاب الجنائر ؍ حدیث : ۲۲۵۷۔