کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 159
((مَنْ رَاٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ، فَإِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ، فَإِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ، وَذٰلِکَ أَضْعَفُ الْاِیْمَانِ.....)) [1] ’’(مسلمانو!)تم میں سے جو شخص کوئی خلافِ شرع(بُرا) کام دیکھے تو اُسے چاہیے کہ وہ اس کام کواپنے ہاتھ سے مٹا دے۔ اگر وہ اتنی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے (بُرا کام کرنے والے کو منع کرے۔) اور اگر وہ اس کی بھی طاقت نہ رکھے تو دل ہی سے سہی (اس کو بُرا جانے اور اس سے بیزاری کا اظہار کرے۔) یہ سب سے کم درجے کا ایمان ہے۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھا او ر (ایمان و عمل کے حوالے سے) انہوں نے یہی فہم حاصل کیا تھا کہ : ایمان دل کے اعتقادِ جازم، زبان کے اقرار اور عمل بالجوارح کا نام ہے۔ یہ اطاعت و عمل سے بڑھتا اور معصیت و نافرمانی سے کم ہو جاتا ہے۔ چنانچہ امیر المؤمنین سیّدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : (( اَلصَّبْرُ مِنَ الْاِیْمَانِ بِمَنْزِلَۃِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ، مَنْ لَا صَبْرَ لَہُ لَا اِیْمَانَ لَہُ۔)) [2] ’’ایمان میں صبر کی قدرو منزلت، جسم میں سر کی طرح ہے۔ جس کے پاس صبر کی دولت نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں۔‘‘ اور سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہتے تھے: ((اَللّٰھُمَّ زِدْنَا إِیْمَانًا وَّ یَقِیْنًا وَّ فِقْھًا۔))[3] [1] صحیح مسلم؍ کتاب الإیمان؍ حدیث: ۱۷۷۔ [2] دیکھیے الامام اللالکائی کی کتاب ’’ شرح اُصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ من الکتاب والسنۃ واجماع الصحابۃ والتابعین‘‘ [3] دیکھیے الامام اللالکائی کی کتاب ’’ شرح اُصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ من الکتاب والسنۃ واجماع الصحابۃ والتابعین‘‘