کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 157
(( اَلْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَّ سَبْعُوْنَ.....اَوْ بِضْعٌ وَّ سِتُّوْنَ.....شُعْبَۃً، فَأَفْضَلُھَا قَوْلُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَدْنَاھَا إِمَاطَۃُ الْأَذَی عَنِ الطَّرِیْقِ، وَالْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَانِ.....)) [1] ’’ایمان کے ستر سے کچھ زیادہ ( یا فرمایا : ساٹھ سے کچھ زیادہ ..... بروایت صحیح البخاری: ۹) شعبے ہیں اور ان میں سے افضل ترین اس بات کا اقرار ہے کہ : ایک اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔اور ان میں سے ادنیٰ شعبہ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹادینا ہے ..... اور حیاء بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔‘‘ اسی طرح علم اور عمل بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ( لازم و ملزوم ہیں ) ان دونوں میں سے کوئی بھی دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتا۔ اور عمل، علم کی ہی ہیئت و صورت اور اس کا جوہر ہوتا ہے۔ آیات و احادیث کے بہت سارے دلائل اس بارے میں وارد ہوئے ہیں کہ ایمان کے بہت سارے درجات و شعبہ جات ہیں۔ایمان میں زیادتی اور کمی ( عمل کی بنا پر) ہوتی رہتی ہے اور یہ کہ بلاشبہ اہل ایمان ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں۔جیسا کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں : ﴿وَیَزْدَادَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِیْمَانًا .....﴾(المدثر:۳۱) ’’اور ایمان والوں کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔‘‘ دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَإِذَا مَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَذِهِ إِيمَانًا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ﴾(التوبہ:۱۲۴) ’’اور جب کوئی سورت (قرآن کی) اترتی ہے تو ان (منافقوں ) میں سے بعضے (بعضوں کو یا مسلمانوں کو ہنسی ٹھٹھے سے) یوں کہتے ہیں : تم میں سے کس کے ایمان کو اس سورت نے بڑھا دیا؟ بات یہ ہے کہ جو ایمان والے ہیں انہی کے ایمان کو اس سورت نے بڑھایا اوراللہ کے نئے حکم اترنے کی وہ خوشی مناتے ہیں۔‘‘ [1] صحیح مسلم؍ کتاب الایمان؍ حدیث: ۱۵۳ و صحیح البخاری ببعض الکلمات؍ حدیث: ۹