کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 156
’’بلاشبہ جن لوگوں نے یہ کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے (توحید کا اقرار کیا) پھر اس پر جمے رہے۔ ان پر (رحمت کے) فرشتے نازل ہوکر ان سے کہتے ہیں : ڈرو نہیں اور نہ رنج کرو۔ جس بہشت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی خوشی مناؤ۔ ‘‘ ج.....﴿ وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ﴾(الزخرف:۷۲) ’’ اور یہ جنت جو تم کو ملی ہے تو ان ( نیک ) کاموں کے بدل ہے جن کو تم (دنیا میں ) کرتے رہے تھے۔‘‘ د.....﴿ وَالْعَصْرِ ، إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ ، إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (3) ﴾ (العصر :۱تا۳) ’’زمانے کی قسم! بیشک سب آدمی گھاٹے میں پڑے ہوئے ہیں۔مگر جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے۔ اور ایک دوسرے کو حق پر چلنے کی نصیحت کرتے رہے اور ایک دوسرے کو ( مصیبت میں ) صبر کے لیے کہتے رہے۔ ‘‘ [یہاں حق سے مراد ہے: توحید و رسالت پر ایمان، شریعت کے عائد کردہ احکام پر عمل اور منع کردہ اُمور سے اجتناب ہے۔] سیّدنا ابو عمرو سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم )! اسلام کے بارے میں مجھ سے ایسی بات ارشاد فرمائیے کہ اس کے متعلق آپ کے بعد کسی سے بھی سوال کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ تو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ)) ..... ’’کہو! میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر اس ( دعویٰ ایمانی) پر استقامت اختیار کرو۔‘‘ ( یعنی پوری زندگی شریعت مطہرہ پر عمل کے ساتھ استقامت اختیار کیے رکھو۔ (یہی بات اُوپر سورہ فصلت والی آیت میں بیان ہوئی ہے۔ ) [1] سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] صحیح مسلم ؍ کتاب الایمان؍ حدیث: ۱۵۹۔