کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 150
’’لوگوں کو ان کے دوستوں پر قیاس اور اعتبار کرو۔ کیونکہ آدمی دوستی اس سے لگاتا ہے جسے وہ اچھا سمجھتا ہے۔‘‘ اعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں : ’’سلف کسی آدمی کے متعلق تین چیزوں کے بعد کچھ نہیں پوچھتے تھے: (۱) .....اس کا چال چلن (۲) .....اس کے اٹھنے بیٹھنے کی جگہیں (۳) .....لوگوں سے اس کا دوستی لگانا۔‘‘ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں : ’’کسی آدمی کے بگاڑنے یا سنوارنے میں اس کے ساتھی سے زیادہ موثر اور کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔‘‘ سیّدنا قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں : ’’ اللہ کی قسم! ہم نے کسی آدمی کو نہیں دیکھا مگر وہ جن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے ان کا ہم شکل اور انھی جیسا ہوتا ہے۔ تو نیک لوگوں کے ساتھ ہم نشینی اختیار کرو تاکہ تم ان کے ساتھ ہو اور ان جیسے ہو جاؤ۔‘‘ فضیل رحمہ اللہ کہتے ہیں : ’’مومن کے لیے لائق نہیں کہ وہ ہر اس آدمی کے ساتھ بیٹھ جائے جسے وہ چاہے۔‘‘ [1] اس بارے میں بہت سارے آثار ہیں جن کو ذکر کرنا طوالت کا باعث ہو گا اور میں نے ان میں سے منتخب چند ایک اقوال ذکر کر دیے ہیں جو کافی و شافی ہیں۔ جس شخص نے مذکورہ آثار میں غور و فکر کیا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ برے اور اہل فسق و فجور کے ساتھ میل جول خطرے سے خالی نہیں اور اس سے دین و اخلاق خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔پس تم دیکھو گے کہ ایک آدمی سیدھا سادہ، پاک دامن اور نیک ہے مگر جب [1] الإبانۃ لابن بطۃ : ۲؍ ۴۳۹، ۴۵۲، ۴۷۶، ۴۸۰، ۴۸۱۔