کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 149
میل جول میں خیر اور نفع ہو، اور برے ساتھیوں سے بہت زیادہ بچنے کی کوشش کرے۔ جو شخص سلف صالحین کے حالات پر غور و فکر کرتا اور ان کی سیرت گہری نظر سے دیکھتا ہے، وہ یہ بات جانتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ برے، فاسق بدعتی ساتھیوں سے بچنے کی تاکید کرتے تھے۔[1] سیّدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ’’آدمی کا چلنا، داخل ہونا اور محبت کرنا اس کی سمجھ میں سے ہے۔‘‘ ابوقلابہ، ابودرداء رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بیان کرنے کے بعد یوں کہتے ہیں کہ ’’کیا تم شاعر کا یہ شعر نہیں دیکھتے کہ وہ کہتا ہے: عن المرء لا تسئل وأبصر قرینہ فکل قرین بالمقارن مقتدی ’’کسی شخص کے متعلق کچھ نہ پوچھو بلکہ اس کے ساتھی کو دیکھو کیونکہ ہر ایک ساتھی اپنے دوسرے ساتھی کی پیروی کرتا ہے۔‘‘[2] اصمعی رحمہ اللہ اس شعر کے متعلق کہتے ہیں : ’’میں نے کوئی ایسا شعر نہیں دیکھا جو اس سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے قریب ہو۔‘‘[3] سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا: ((اِعْتَبِرُوا النَّاسَ بِأَخْدَانِہِمْ، فَإِنَّ الْمَرْئَ لَا یُخَادِنُ إلَّا مَنْ یُعْجِبُہٗ)) [1] العزلۃ للخطابي، ص: ۴۶۔ الابانۃ لابن بطۃ: ۲؍۴۳۱۔ [2] معجمہ لابن الاعرابي، رقم: ۱۲۷۷۔ العزلۃ للخطابي، ص: ۴۹۔ الإبانۃ لابن بطۃ: ۲؍ ۴۳۷، ۴۳۹۔ [3] الإبانۃ لابن بطۃ: ۲؍ ۴۴۰۔