کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 146
اس کے علاوہ اور نصوص بھی اس موضوع پر وارد ہوئی ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے دلوں کو ایمان کے پانی سے سیراب کرے اور ہمیں ظاہری و باطنی فتنوں سے محفوظ رکھے۔ تیسرا سبب بُرے دوستوں کی محفل اور ساتھ کسی شخص کے ایمان اور اخلاق کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ اور ضرر رساں چیز برے ساتھیوں سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ ان سے میل جول اور دوستی رکھنا نقص و ضعف ایمان کے اسباب میں سے عظیم ترین سبب ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ((اَلرَّجُلُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیْلِہٖ فَلْیَنْظُرْ اَحَدُکُمْ مَنْ یُّخَالِلُ)) [1] ’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، تو تم میں ہر ایک آدمی یہ دیکھے کہ وہ کس کے ساتھ دوستی لگا رہا ہے۔‘‘ حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ کہتے ہیں : ’’اس حدیث کا یہ معنی ہے۔و اللہ اعلم۔ کہ آدمی اپنے دوست کے افعال دیکھ کر ان کا عادی ہو جاتا ہے اور دین بھی ایک عادت ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ دوستی اس سے لگاؤ جو نیک اور اچھا ہو، کیونکہ بہتری اور خیر بھی ایک عادت ہے۔‘‘ اسی حدیث کے معنی میں عدی بن زید کا یہ شعر ہے: [1] ابوداود،ح: ۴۸۳۳۔ الترمذی: ۲۵۳۵۔ مسند أحمد: ۲؍ ۲۰۳۔ المنتخب من المسند، ح: ۱۴۳۱۔ مستدرک حاکم، ح: ۷۳۱۹ ۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے ابوداؤد میں اسے حسن کہا ہے۔ السلسلۃ الصحیحۃ: ۲؍ ۶۳۴۔