کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 141
دوسرا سبب دُنیا اور اس کے فتنے انسان کے ایمان میں کمی پیدا کرنے والے خارجی عوامل میں سے یہ دوسرا سبب ہے، کیونکہ ایمان کی کمی اور ضعف کے اسباب میں دنیا کی زندگی کے سامان کے ساتھ اشتغال اور مصروفیت ہے او راپنے اوقات کو اس کے طلب میں لگا دینا اور اس کی لذتوں فتنوں کے پیچھے چلنا ہے۔ جب بندے کی رغبت دنیا کے ساتھ حد سے بڑھ جائے اور اس کا دل اس سے چمٹ جائے تو اللہ کی طاعت اور ایمان میں اتنی ہی کمزوری آ جاتی ہے۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں : ’’ اور بندے کی دنیا میں رغبت و رضامندی کے اندازے کے مطابق وہ اللہ کی اطاعت سے بوجھل اور آخرت کے طلب سے دور ہو جاتا ہے۔‘‘[1] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں دنیا کی مذمت کی اور اس کی خساست واضح کی اور کئی آیات میں اس کی حقارت بیان کی۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾ (الحدید: ۲۰) ’’جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل تماشا اور زینت اور آپس میں فخر اور مال و اولاد میں زیادہ ہونا ہے، جس طرح بارش ہوتی ہے کہ زمین دار کو اس کی انگوری خوش کر دیتی ہے پھر وہ زور پکڑتی ہے پھر تم اسے دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہو گئی پھر وہ [1] الفوائد لابن القیم ، ص: ۱۸۰۔