کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 140
ایک شدید بھوکا کتا ہے، تیرے اور اس کے درمیان گوشت یا روٹی کا ایک ٹکڑا ہے، تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے اور تجھ پر اپنی نظریں گاڑے ہوئے ہے اور تو اس کی مخالفت نہیں کر رہا، وہ تیرے زیادہ قریب ہے پس تو اسے ڈانٹ رہا ہے اور اس پر چیخ رہا ہے مگر وہ انکار کر رہا ہے اور تجھ پر منڈلا رہا ہے اور جو کچھ تیرے سامنے ہے اسے وہ لوٹنا چاہتا ہے۔‘‘[1] ان کی مراد اس مثال سے یہ ہے کہ انسان پر شیطان کے خطرات کی مسافت انسان پر واضح کر دی جائے، جبکہ وہ اللہ تعالیٰ سے پناہ نہ مانگے اور نفع دینے والی دعائیں اور اذکار مسنونہ کا اہتمام نہ کرے۔ جو شخص اس بات سے اندھا اور غافل ہو جائے اور اعراض کرنے لگے تو شیطان اس کے ساتھ چمٹ جاتا ہے اور اس کے خیالات اس کے لیے مزین کر دیتا ہے اور اسے مہلت دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس کا ایمان لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ ، وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ ، حَتَّى إِذَا جَاءَنَا قَالَ يَالَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِينُ﴾(الزخرف: ۳۶۔۳۸) ’’اور جو شخص رحمان کے ذکر سے اندھا ہو جائے تو ہم اس کے ساتھ ایک شیطان لگا دیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے، اور وہ ان کو راستے سے روکتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔یہاں تک کہ وہ جب ہمارے پاس آیا تو کہنے لگا: ہائے افسوس! کہ میرے اور تیرے درمیان دو مشرقوں جتنی دوری ہو جائے پس وہ بہت برا ساتھی ہو گا۔‘‘ و اللّٰہ المستعان۔ [1] التبیان في اقسام القرآن لابن القیم ، ص: ۴۱۹، ط: دار المعرفہ۔