کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 131
’’میں اپنے آپ کو برائیوں سے پاک نہیں کہتی، نفس برائی کا حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے، بے شک میرا رب بخشنے والا رحم والا ہے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَى مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا ﴾(النور: ۲۱) ’’اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی گناہوں سے پاک نہ ہو سکتا۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے معزز ترین اور محبوب ترین بندے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿ وَلَوْلَا أَنْ ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا﴾(الاسراء: ۷۴) ’’اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو آپ ان کی طرف تھوڑا سا مائل ہو جاتے۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خطبہ حاجت یوں ذکر کرتے اور انھیں سکھاتے: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ وَ نَسْتَعِیْنُہُ وَنَسْتَغْفِرُہُ وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیّاٰتِ اَعْمَالِنَا مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ)) [1] ’’تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور اس سے مدد چاہتے ہیں اور اس سے بخشش مانگتے ہیں اور ہم اپنے نفسوں اور اعمال کی برائیوں سے پناہ چاہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔‘‘ ’’تو برائی نفس میں چھپی ہوئی ہے اور وہ بداعمالیوں کی طرف بہت زیادہ بلانے والا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ بندے اور اس نفس کے درمیان سے نکل جائے اور انھیں [1] ابوداود، ح: ۱۰۹۷۔ سنن ابن ماجہ، ح: ۱۸۹۳۔