کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 130
اس بارے میں امام ابن قیم رحمہ اللہ نے ایک مختصر کلام کیا ہے مگر وہ مقصود کو پورا کرتا ہے: ’’توفیق کا کم ہونا، رائے کا خراب ہونا، حق کا چھپ جانا، دل کا خراب ہونا، گم نام ہونا، وقت کا ضیاع، مخلوق کا نفرت کرنا، رب اور بندے کے درمیان ڈر اور وحشت کا آ جانا، دعا کی قبولیت کا رک جانا، دل کا سخت ہو جانا، برکت کا اٹھ جانا (رزق میں اور عمر میں ) علم کی محرومیت اور ذلت کا لباس، دشمن کا ذلیل کرنا، سینے کا تنگ ہونا، برے دوستوں سے جو دل کو خراب کر دیتے ہیں آزمایا جانا، غم اور فکر کا لمبا ہونا، معیشت کا تنگ ہونا اور حالات کا چھپ جانا، نافرمانی اللہ کے ذکر سے غافل ہونے سے اس طرح پیدا ہوتی ہے جس طرح پانی سے کھیتی یا آگ سے کسی چیز کا جلنا، جس طرح ان کے متضاد چیزیں طاعت سے پیدا ہوتی ہیں۔‘‘[1] چوتھا سبب نفس امارۃ بالسوء یہ مذموم نفس ہے جو انسان میں پایا جاتا ہے، یہ نفس انسان کو برے کام کا حکم دیتا ہے اور اسے ہلاک کر دینے والی جگہوں کی طرف بلاتا ہے۔یہ اس نفس کی طبعی عادت اور پیدائشی خصلت ہے، مگر جسے اللہ تعالیٰ بھلائیوں کی توفیق دے اور ثابت قدم رکھے اور مدد بھی کرے۔ کوئی شخص بھی اپنے نفس کی شرارت سے بچ نہیں سکتا، ہاں اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ اس کی برائی سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں عزیز مصر کی بیوی کی بات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ﴿ وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ (یوسف: ۵۳) [1] الفوائد لابن القیم ، ص: ۶۷۔