کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 128
مثال کے طور پر ایک بدکاری کرنے والے کے ساتھ وہ عشق بھی شامل ہو جائے جو عاشق کے دل کو معشوق کے ساتھ مشغول رکھے اور اس کی عبادت و پرستش کرے اور اس کی تعظیم، خضوع اور عاجزی کرے اور اس کی اطاعت اور حکم برداری کو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور فرمانبرداری سے مقدم سمجھے تو اس کی محبت، تعظیم، اس کے دوست کی دوستی اور دشمن سے دشمنی، پسندیدہ سے پیار، ناپسندیدہ سے کراہت کے ساتھ ایسی چیز بھی مل جائے جو اس گناہ کرنے والے کے صرف بدکاری کا ارتکاب کرنے والے سے زیادہ ضرر رساں ہو۔‘‘[1] شیخ محمد بن صالح بن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ایمان کی کمی کے کئی اسباب ہیں، گناہ کا ارتکاب اس کی جنس اور قدر کے مطابق ایمان کو کم کرتا ہے، پس ایمان کی کمزوری کبائر کے ساتھ بہ نسبت صغائر کے زیادہ ہوتی ہے اور ایمان کی کمی کسی حرام جان کے مار ڈالنے سے زیادہ بڑی ہوتی ہے بہ نسبت اس کا مال لینے کے، اور دو گناہوں کے ساتھ زیادہ بڑی ہے بہ نسبت ایک گناہ کے۔ گناہ کو حقیر سمجھنا:.....گناہ کو حقیر سمجھنا اس طرح ہے کہ گناہ کسی کم خوف والے دل سے صادر ہو تو اس سے ایمان کا نقص بڑا ہوتا ہے جو بڑے مضبوط دل سے صادر ہو جو اللہ کی تعظیم کرے اور اس سے بہت ڈرے۔ لیکن یہ گناہ اس سے نافرمانی اور کوتاہی سے ہو گیا ہو۔ اور گناہ کی طرف دعوت دینے والے کی طاقت کا معاملہ یہ ہے کہ نافرمانی اس شخص سے صادر ہو جس کی نافرمانی کے ارتکاب کے اسباب کم ہوں تو ایمان کی کمزوری اس کمی سے زیادہ ہو گی کہ جب وہ اس سے صادر ہے جس سے اس کے اسباب قوی ہوں، اسی لیے فقیر کا تکبر کرنا اور بوڑھے کا بدکاری کرنا زیادہ [1] إغاثۃ اللھفان: ۲؍۸۷۷ باختصار۔