کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 126
گناہوں سے بدکاری، چوری، یتیموں کا مال کھانا، بخیلی، بزدلی اور جزع فزع کرنا وغیرہ۔ اس قسم کے گناہ سب مخلوق سے تعلق رکھتے ہیں، کیونکہ یہ لوگ سبعیہ اور ملکیہ گناہوں سے عاجز ہوتے ہیں اور اس قسم سے وہ باقی قسموں کی طرف جاتے ہیں۔یہ قسم ان کو لگام کے ذریعے ان اقسام تک کھینچ کر پہنچاتی ہے، پس یہ سب سبعیہ گناہوں کی طرف جاتے ہیں پھر شیطانی گناہوں کی طرف اور پھر ربوبیہ سے جھگڑنے کے لیے جاتے ہیں اور وحدانیت میں شرکت کے لیے جاتے ہیں۔[1] پس یہ چیزیں ہمیں بتاتی ہیں کہ گناہ ایمان پر اثر ڈالنے اور اسے کمزور کرنے میں تاثیر کے لحاظ سے مختلف ہیں۔پس یہ ان کا فرق اور ایمان میں ان کی تاثیر بہت سے اعتبارات کے لیے لوٹتا ہے۔ ان میں سے کچھ گناہوں کی جنس، قدر، شدید خرابی، درجہ اور زمانہ بھی ہے اور کرنے والے کے مطابق کا خیال رکھنا بھی ہے اور اس کے علاوہ دیگر اعتبارات بھی ہیں۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں : ’’خلاصہ کلام یہ ہے کہ خرابیوں کے لحاظ سے گناہ مختلف ہیں : پس عورتوں سے دلی دوستی لگانا یا مردوں سے دلی دوستی لگانا یہ اس سے کم درجے کی خرابی ہو گی کہ اعلانیہ بدکاری کی جائے اور چھپ کر بدکاری کرنے والا آدمی علانیہ بدکاری کرنے والے سے کم خرابی والا ہے۔ اسی طرح گناہ کو چھپانے والا لوگوں کو بتانے والے سے اور علانیہ کہنے والے سے کم گناہ گار ہوتا ہے تو یہ گناہ اللہ کی معافی سے دور ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایسی عورت سے بدکاری کرنا جس کا کوئی خاوند نہ ہو یہ گناہ میں اس عورت سے آسان ہے جس کا خاوند موجود ہو، کیونکہ اس میں خاوند پر ظلم و زیادتی ہوتی ہے اور اس کے بستر کو خراب کرتا ہے اور کبھی کبھی یہ گناہ صرف بدکاری کے [1] الجواب الکافی لابن القیم، ص: ۲۸۹۔ مجموع الفتاوی لابن تیمیہ: ۱۳؍ ۸۳۔