کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 124
سے بچا جائے۔‘‘ صحیحین میں ہے کہ عبدالرحمان بن ابوبکرہ نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا: ((أَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ؟ ثََلاثًا: اَلْإِشْرَاکُ بِاللّٰہِ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ، وَ شَہَادَۃُ الزُّوْرِ)) [1] ’’کیا میں تمھیں بڑے بڑے گناہ بتاؤں ؟ آپ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی، پھر فرمایا اللہ کے ساتھ شریک کرنا، والدین کی نافرمانی اور جھوٹی گواہی دینا۔‘‘ نیز صحیحین میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا گناہ اللہ کے نزدیک بڑا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ((أَنْ تَدْعُو لِلّٰہِ نِدًّا وَھُوَ خَلَقَکَ، قِیْلَ ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ مَخَافَۃَ أَنْ یَّطْعَمَ مَعَکَ، قِیْلَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِیْلَۃِ جَارِکَ)) [2] ’’ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا۔‘‘ پوچھاگیا:’’ پھر کون سا گناہ بڑا ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا:’’ تو اپنی اولاد کو قتل کر ڈالے اس وجہ سے کہ وہ تیرے ساتھ بیٹھ کر نہ کھا سکے۔‘‘ پوچھاگیا: ’’پھر کون ساگناہ بڑا ہے؟‘‘ تو آپ نے فرمایا : ’’تو اپنے ہمسائے کی بیوی کے ساتھ بدکاری کرے۔‘‘ [1] صحیح البخاری، کتاب الشہادات، ح: ۲۶۵۳۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، ح: ۸۷۔ [2] صحیح البخاری، کتاب التفسیر القرآن، ح: ۴۷۶۱۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، ح: ۸۶