کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 123
اور فرمایا: ﴿ وَإِذَا مَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَذِهِ إِيمَانًا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ ، وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَى رِجْسِهِمْ ﴾(التوبۃ: ۱۲۴۔۱۲۵) ’’پس جو لوگ ایمان لائے تو اللہ تعالیٰ ان کا ایمان بڑھا دیتا ہے اور وہ خوش ہوتے ہیں اور جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی گندگی کے ساتھ اور گندگی میں بڑھا دیتا ہے۔‘‘[1] اس قسم کی آیات قرآن مجید میں بہت زیادہ ہیں۔قرآن اور حدیث اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ گناہ بڑے اور چھوٹے ہوتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿ إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا﴾ (النساء: ۳۱) ’’اگر تم جن گناہوں سے روکے جاتے ہو ان میں سے بڑے بڑے گناہوں سے اگر اجتناب کرو گے تو ہم تمھارے چھوٹے گناہ تم سے دور کر دیں گے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿ الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ﴾ (النجم: ۳۲) ’’جو لوگ بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے اجتناب کرتے ہیں مگر چھوٹے چھوٹے گناہوں سے۔‘‘ صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَۃُ إِلَی الْجُمُعَۃِ، وَ رَمَضَانُ إِلٰی رَمَضَانَ مُکَفِّرَاتٌ لِمَا بَیْنَھُنَّ إِذَا اجْتُنِبَتِ الْکَبَائِرُ)) [2] ’’ پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک درمیان والے گناہوں کا کفارہ ہو جاتے ہیں ،جب کبیرہ گناہوں [1] إغاثۃ اللھفان: ۲؍۸۷۴۔ [2] صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، ح: ۲۳۳۔