کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 115
عذاب اس پر واجب ہو گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے غصے اور عذاب کو واجب کرنے سے وہ جاہل ہے۔ اور نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اور اس کی نگرانی کر رہا ہے اور اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ انجام کار اس کا ایمان کمزور ہو جائے گا یا بالکل ختم ہو جائے گا۔ پس ہر ایک اللہ کا نافرمان اس اعتبار سے بالکل جاہل ہوتا ہے، اگرچہ وہ اس کی حرمت کو جانتا بھی ہو، بلکہ اس کی حرمت کا علم رکھنا اس کی معصیت ہونے کے لیے ضروری ہے تبھی تو اسے اس کی سزا ملے گی۔‘‘[1] اس آیت کی ایسی ہی ایک تفسیر سلف کی ایک جماعت نے کی ہے۔ ان میں سے کچھ روایات امام طبری رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں ذکر کی ہیں، چنانچہ ابو العالیہ سے مروی ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہا کرتے تھے کہ جو گناہ انسان کرتا ہے تو وہ اس کی جہالت کی وجہ سے اس سے صادر ہوتا ہے۔ اور قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ’’کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے تو انھوں نے کہا کہ جس چیز سے بھی اللہ کی نافرمانی ہو وہ جہالت کی وجہ ہوتی ہے، یہ عمداً ہو یا بغیر ارادے کے؟‘‘ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ’’جو شخص بھی اپنے رب کی نافرمانی کرے وہ جاہل ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے گناہ کو چھوڑ دے۔‘‘ نیز انھوں نے کہا:’’ جس نے نافرمانی کی تو یہ اس کی طرف سے جہالت ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ یہ برا کام کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس سے پلٹ جائے۔‘‘ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ’’جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے تو جب تک وہ نافرمانی کرتا رہے گا جاہل رہے گا۔‘‘ ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں :’’ جو آدمی گناہ کا کام کرے تو وہ اس کے چھوڑنے تک جاہل رہتا ہے۔‘‘[2] [1] تفسیر السعدي : ۲؍ ۳۹۔ [2] تفسیر الطبری: ۸؍۹۰۔ تفسیر البغوی: ۱؍ ۳۰۷۔ مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ: ۷؍ ۲۲۔ تفسیر ابن کثیر: ۱؍ ۴۶۳۔