کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 110
مکرو فریب کیا تو اسے گم نام کر دیا اور اسے ہدایت سے بے یار و مددگار چھوڑ کر اسے پست کر دیا، حتیٰ کہ وہ نافرمانیوں کا ارتکاب کرنے لگا اور اللہ کی اطاعت چھوڑ دی۔ پھر مجاہد رحمہ اللہ سے نقل کیا کہ انھوں نے کہا: ﴿ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا ﴾یعنی ’’جس نے اسے گمراہ کیا وہ ناکام ہوا۔‘‘ سعید بن جبیررحمہ الله کہتے ہیں :﴿ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا ﴾ یعنی ’’جس نے اسے گمراہ کیا وہ ناکام ہوا۔‘‘ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں :’’ یعنی اسے گناہ گار کیا۔‘‘[1] امام ابن قیم رحمہ اللہ نے کہا : ’’اسے نقصان پہنچایا اور چھپایا، یعنی نیک کام چھوڑ دیے اور گناہ کرنے لگا اور فاجر ہمیشہ پوشیدہ جگہ والا ہوتا ہے اس میں مروّت نہیں ہوتی اور وہ پوشیدہ شخصیت والا ہوتا ہے، الٹے سر والا ہوتا ہے، ذلت سے سر جھکائے ہوتا ہے، بے حیائی کا مرتکب ہوتا ہے اس نے اپنے نفس کو پوشیدہ کر دیا اور خوار کر دیا۔‘‘ [2] تو جس شخص نے اپنے نفس کو نیک کام کرنے اور برے کاموں سے بچنے کے ساتھ پاک صاف کر لیا تو وہ کامیاب ہو گیا اور فلاح پا گیا اور جس شخص نے نیک کام چھوڑ کر برے کاموں کا ارتکاب کر کے اپنے نفس کو گندا کر دیا تو وہ ناکام اور خسارے والا ہو گیا۔ ایمان کی کمی کے اسباب اور عوامل بہت زیادہ ہیں، مگر مجموعی طور پر ان کی دو اقسام جاتے ہیں : (۱) داخلی (۲) خارجی پھر ہر قسم کے کچھ عوامل ہیں۔ ٭٭٭ [1] تفسیر الطبری: ۲۴؍۴۵۸۔ [2] إغاثۃ اللہفان: ۱؍۸۴۔ دیکھئے: التبیان في أقسام القرآن لابن القیم ، ص: ۲۱۔ط: دار المعرفہ