کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 109
امام ابن جریر طبری اپنی تفسیر میں کہتے ہیں کہ ﴿ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ﴾کا مطلب یہ ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا وہ کامیاب ہو گیا تو وہ کفر اور نافرمانیوں سے پاک ہو گیا اور نیک اعمال کے ساتھ اس نے اسے درست کر دیا۔ پھر انھوں نے سلف سے وہ آثار بیان کیے جو ان کی تائید کرتے ہیں۔ چنانچہ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ’’جس نے کوئی نیک کام کیا تو اس نے اپنے آپ کو اللہ کی طاعت کے ساتھ پاک و صاف کر لیا اور انھی سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا جس نے اپنے نفس کو نیک عمل کے ساتھ پاک و صاف کر لیا وہ کامیاب ہو گیا۔‘‘ ابن زید سے مروی ہے کہ ’’انھوں نے کہا کہ جس کے دل کو اللہ نے پاک کر دیا وہ کامیاب ہو گیا۔‘‘ مجاہد، سعید بن جبیر اور عکرمہ سے مروی ہے انھوں نے اس آیت﴿ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ﴾کی یوں تشریح کی۔ یعنی ’’جس شخص نے اپنے نفس کی اصلاح کی۔‘‘[1] امام ابن قیم رحمہ اللہ حسن بصری رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : ’’وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا اور اس کی اصلاح کی اور اسے اللہ کی اطاعت پر آمادہ کیا اور وہ شخص ناکام ہو گیا جس نے اسے ہلاک کیا اور اسے اللہ کی نافرمانی پر برانگیختہ کیا۔‘‘ امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ سے منقول ہے انھوں نے کہا کہ یہ زَکّٰی نَفْسَہٗ یعنی نفس بڑھایا اور طاعت، صدقے اور نیکی کے ساتھ بلند کیا۔[2] اور فرمایا ﴿ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا ﴾کی تفسیر میں ابن جریر اپنی تفسیر طبری میں بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یعنی اس کے طلب کرنے میں ناکام ہوا، یعنی جو اچھائی اپنی جان کے لیے طلب کی وہ نہ پائی۔ ﴿ مَنْ دَسَّاهَا ﴾یعنی جس نے اپنے نفس کے ساتھ [1] تفسیر الطبري: ۲۴؍ ۴۵۶، ط: مؤسسۃ الرسالۃ [2] إغاثۃ اللہفان: ۱؍ ۸۴، تحقیق: محمد عزیر شمس، ط: دار عالم الفوائد۔