کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 107
دوسری بحث: ایمان میں کمی کے اسباب تمہید: اس سے قبل ایمان میں اضافے کے اسباب گزر چکے ہیں اب اس کے نقص اور کمی کے اسباب پر بحث کی جائے گی۔ جس طرح وہ اسباب ہیں جو ایمان کو بڑھاتے اور تقویت دیتے ہیں اسی طرح اسے کمزور اور بے طاقت کرنے والے اسباب بھی موجود ہیں۔ جس طرح مسلمان سے اس بات کا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ایمان کی زیادتی کے اسباب کو پہچانے اور معلوم کرے تاکہ وہ انھیں اپنے نفس کے مطابق بنائے۔ اسی طرح اسے ایمان کو کمزور کرنے والے اسباب کی معرفت بھی ہونا ضروری ہے تاکہ ان سے پرہیز اور اجتناب کر سکے، جیسے ایک شاعر کہتا ہے: عرفت الشر لا للشر لکن لتوقیہ و من لم یعرف الشر من الخیر یقع فیہ ’’میں نے برائی کو معلوم کیا مگر اس کا ارتکاب کرنے کے لیے نہیں کیا بلکہ اس لیے کیا تاکہ اس سے بچ جاؤں۔‘‘ ’’جو شخص لوگوں میں سے شر کو نہیں پہچانتا تو وہ شخص اس برائی میں گر پڑتا ہے۔‘‘ صحیحین میں حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے اور میں آپ سے برائی کے متعلق پوچھتا کیونکہ مجھے یہ خوف تھا کہ کہیں مجھے برائی پا نہ لے۔[1] امام ابن جوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں : [1] صحیح بخاری، کتاب المناقب، ح: ۳۶۰۶۔ صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، ح:۱۸۴۷۔