کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 104
ارادوں کو کمزور کرنے والی ہیں ان کا بھی مقابلہ کرے، کیونکہ وہ ارادات جن کی اصلیت خیر میں رغبت کرنا ہے اور خیر سے محبت اور اس کی طرف کوشش کرنا ہے اور یہ کام تب مکمل ہوتا ہے کہ شر میں رغبت کرنے والے ارادات جو خیر کے ارادات کے منافی ہیں ان کو ترک کر دیا جائے اور نفس امارہ بالسوء کا مقابلہ کیا جائے۔ تو جب بندہ فتنوں میں گر جانے سے محفوظ ہو جائے اور تمام شہوات و شبہات کے فتنوں سے بچ جائے تو اس کا ایمان مکمل ہو جاتا ہے اور اس کا یقین کامل ہو جاتا ہے۔[1] و باللّٰہ وحدہ التوفیق! ٭٭٭ [1] التوضیح والبیان لابن سعدی ، ص: ۳۷۔