کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 102
نیز یہ شخص حق کی مدد کے لیے آگے بڑھ رہا ہے اور جو شخص کسی کام کی مدد کے لیے آگے بڑھے تو ضروری ہے کہ اس پر فتوحات علمی و ایمانی اس کی سچائی اور اخلاص کے مطابق کھول دی جائیں۔[1] جو شخص نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے اور صراط مستقیم کی طرف دعوت دیتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اوامر و نواہی میں سچائی اور اخلاص سے کام لے۔ یہاں تک کہ وہ نتیجہ خیز ہو جائے اور ایمان خالص بھی اس میں اور جن کو دعوت دی جائے ان میں اپنا ثمر دے اور یہ کہ وہ اپنی دعوت میں حکمت کو لازم کرلے اور نرمی اور صبر سے دعوت دیے جانے والوں کی تکالیف پر صبر کرے، علم وہی ہے جس کے ساتھ وہ انھیں اپنی طرف دعوت دے رہا ہے۔[2] جب یہ اوصاف اس دعوت حق میں آ جائیں تو اس وقت وہ نتیجہ خیز ہوتی ہے اور اللہ کے حکم سے نفع دیتی اور اس کے ایمان کی طاقت کا سبب بنتی ہے اور دعوت دیے جانے والوں کے ایمان کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ اہل خیر کی مجالس میں ہم نشینی کرنا: اہل خیر کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور ان کے ساتھ رہنا اور ان سے نرمی برتنا اور ان سے استفادہ کرنے کا شوق رکھنا، ایمان میں اضافے کا بڑا سبب ہے۔ کیونکہ ان مجالس میں اللہ تعالیٰ کے متعلق نصیحت کی جاتی ہے اور اور اس کے عذاب سے ڈرایا جاتا ہے۔ ان مجالس میں ترغیب و ترغیب اور دیگر امور پر دعوت دی جاتی ہے۔ فرمایا: ﴿ وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ (الذاریات: ۵۵) ’’اور نصیحت کیجئے، نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔‘‘ اور فرمایا: [1] التوضیح والبیان، لابن سعدی ، ص: ۳۶، ۳۷۔ [2] مجموع الفتاوی، لابن تیمیہ : ۲۸؍۱۳۷۔