کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 100
طاعات بعض سے موکد اور افضل ہوتی ہیں، تو جتنی طاعت افضل ہو گی تو اتنی ہی ایمان میں زیادتی ہو گی۔ کثرت عمل سے بھی ایمان بڑھتا ہے، کیونکہ عمل ایمان سے ہی ہے تو اس لیے ضروری ہے کہ اس کے بڑھنے سے یہ بھی بڑھے۔‘‘ [1] اعمال صالحہ میں سے وہ عظیم ترین سبب جو ایمان میں اضافہ کرتا ہے وہ اللہ کی طرف دعوت دینا اور اہل خیر کے ساتھ ہم نشینی ہے اور ان دونوں کاموں کی اہمیت اور ایمان میں اضافہ ان کے اس عظیم فائدہ پہنچانے کی وجہ سے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان کے متعلق بھی بحث کی جائے۔ اللہ کی طرف دعوت دینا: اللہ کی طرف دعوت دینا، اس کے دین کی طرف بلانا، حق کی وصیت کرنا اور صبر کی تلقین کرنا وغیرہ ہے۔ دعوت، لوگوں کو اصل دین کی طرف بلانا ہے اور ایک دعوت اللہ کی شریعتوں کو لازم کرنے کا حکم کرنا ہے۔ یہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور مسلمانوں کی خیرخواہی کی دعوت ہے، کیونکہ یہ دعوت ایمان کے اسباب و وسائل میں سے ہے اور اسی کے ساتھ آدمی اپنے نفس کو مکمل کر سکتا ہے اور دوسروں کو کامل بنا سکتا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورۃ العصر میں عصر کی قسم کھائی ہے کہ جنس انسان نقصان میں ہے مگر جو شخص چار صفات کے ساتھ موصوف ہو: (۱) .....ایمان (۲) .....عمل صالح، ان دونوں کے ساتھ نفس کا کمال ہے۔ (۳) .....حق کی وصیت کرنا اور (۴) .....صبر یعنی ان سب باتوں پر صبر کیا جائے۔ اور ان آخری دو کے ساتھ اپنے علاوہ دیگر لوگوں [1] فتح رب البریۃ بتلخیص الحمویۃ لابن صالح العثیمین ، ص: ۱۲۲، ط: دار الوطن للنشر الریاض۔