کتاب: عیدین و قربانی فضیلت و اہمیت ، احکام و مسائل - صفحہ 89
نے امام شافعی سے روایت بیان کی ہے کہ اگر اس دن زوالِ آفتاب سے پہلے ہلالِ عید کی اطلاع مل جائے تو عید کی نماز پڑھی جائے اور اگر اس کے بعد چاند نظر آنے کی اطلاع ملے تو پھر نہ اس دن اور نہ ہی اگلے دن عید کی نماز پڑھی جائے کیونکہ یہ عمل ایک خاص وقت میں کیا جانے والا ہے اور وہ وقت گزر گیا تو اسے پھر کسی دوسرے وقت میں نہیں کیا جائے گا۔ امام خطابی کا کہنا ہے کہ امام مالک اور ابو ثور رحمہما اللہ کا بھی یہی قول ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی امام خطابی رحمہ اللہ نے یہ سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل الفاظ بھی ارشاد فرما دیے ہیں: (( سُنَّۃُ النَّبِيِّ اَوْلٰی بِالْاِتِّبَاعِ، وَحَدِیْثُ أَبِيْ عُمَیْرٍ صَحِیْحٌ فَالْمَصِیْرُ اِلَیْہِ وَاجِبٌ )) [1] ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی پیروی کے لائق ہے اور حضرت ابو عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث صحیح ہے، لہٰذا اس پر عمل واجب ہے۔‘‘ یہ حدیث تو نماز عید الفطر کے بارے میں ہے لیکن عید الاضحی کی نماز کو بھی اسی پر قیاس کیا گیا ہے۔[2] عید مبارک کہنے کا مسنون طریقہ: نماز عید اور خطبہ کے بعد ایک دودسرے کو ملتے وقت محض عید مبارک عید مبارک کہتے ہوئے گلے ملتے جانا ہی کافی نہیں بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کو ملتے وقت کہا جائے: (( تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا وَ مِنْکُمْ )) [1] معالم السنن (۱/ ۲۲۱) [2] دیکھیں: سبل السلام (۱/ ۲/ ۶۴) نیل الاوطار (۲/ ۳۱۰)